کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 78
شیاطین کا سب سے بڑا ہدف ﴿فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُونَ بِہٖ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ زَوْجِہٖ﴾: مطلب یہ ہے کہ ان سیکھنے والوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ایسا عمل سیکھنا چاہتے تھے جس سے میاں بیوی کے درمیان جدائی ہو جائے پھر بیوی اس سیکھنے والے پر عاشق ہو جائے، اور میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دینا ہی سوسائٹی کا سب سے بڑا مفسدہ ہے، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ ابلیس سمندر میں اپنے تخت پر بیٹھا رہتا ہے اور اپنے چیلوں چانٹوں کو ملک میں فساد کرنے کے لیے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے روزانہ بھیجتا رہتا ہے۔ شام کو یہ سب اکٹھے ہو کر ابلیس کے حضور اپنے کارنامے بیان کرتے ہیں ، کوئی کہتا ہے: میں نے فلاں فتنہ کھڑا کیا اور کوئی کہتا ہے: میں نے فلاں شر برپا کیا۔ مگر ابلیس انہیں کچھ اہمیت نہیں دیتا اور کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ایک چیلا آ کر کہتا ہے: میں فلاں میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال کر آیا ہوں ۔ تو ابلیس خوش ہو کر اسے شاباش دیتا ہے اور اسے گلے لگا لیتا ہے اور کہتا ہے یہ تھا کرنے کا کام جو اس نے سرانجام دیا۔‘‘[1] ازدواجی تعلق درحقیقت انسانی تمدن کی جڑ سے عورت اور مرد کے تعلق کی درستی پر پورے انسانی تمدن کی درستی اور اس کی خرابی پر پورے انسانی تمدن کی خرابی کا مدار ہے لہٰذا وہ شخص بدترین مفسد ہے جو اس درخت کی جڑ پر تیشہ چلاتا ہے۔[2] چند تصریحات ۱۔ یہ ضروری نہیں کہ جادو وغیرہ کا اثر ضرور ہو۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ہو تو اثر ہو گا ورنہ نہیں ۔[3] ۲۔ جادو کا جادوگر کو کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوتا اور نہ وہ اسے کسی قسم کی منفعت ہی عطا کرتا ہے بلکہ یہ سراسر خسارہ و نقصان ہے۔[4] [1] صحیح مسلم، صفۃ المنافقین، باب تحریش الشیطان و بعثۃ سرایاہ لفتنۃ الناس … الخ۔ تیسیر القرآن: ۱/۹۴۔ [2] تفہیم القرآن: ۱/۹۹۔ [3] تیسیر القرآن: ۱/۹۵۔ [4] فتح القدیر: ۱/۱۵۵۔