کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 766
لوگ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیں گے تو آپ کی قبر مرجع خاص وعام بنا دی جاتی۔[1] مسلم کتاب الصلاۃ میں جو حدیث سیّدنا جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اس میں یہود کی تخصیص نہیں ، نیز انبیاء کی قبروں کے ساتھ صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا میں تمہیں ایسی باتوں سے منع کرتا ہوں ، نیز سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے درج ذیل حدیث بخاری مسلم احمد نسائی سب کتابوں میں موجود ہے آپ نے کہا کہ یہ سب لوگ (ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر) قوم نوح کے اولیاء اللہ تھے جب وہ مر گئے تو لوگ ان کی قبروں پر اعتکاف کرنے لگے پھر ان کے مجسمے بنائے اور ان کی عبادت کرنے لگے پھر یہی بت قبائل عرب میں پھیل گئے۔[2] برا کام شروع کرنے کا گناہ سوال : برا کام شروع کرنے یا اس کی دعوت دینے کا کیا گناہ ہے؟ جواب : ایسا انسان اپنے ساتھ ساتھ اوروں کے گناہ بھی اٹھائے گا جنہوں نے اس کی راہ کو اختیار کیا ہوگا، فرمان تعالیٰ ہے: ﴿لِیَحْمِلُوْٓا اَوْزَارَہُمْ کَامِلَۃً یَّوْمَ الْقَیٰمَۃِ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِیْنَ یُضِلُّوْنَہُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ اَلَا سَآئَ مَا یَزِرُوْنَo﴾ (النحل: ۲۵) ’’تاکہ روز قیامت وہ اپنے بوجھ پورے پورے اٹھائیں اور ان لوگوں کے بوجھ جنہیں وہ بغیر علم کے گمراہ کرتے رہے ہیں آگاہ رہو برا ہے جو وہ اٹھاتے ہیں ۔‘‘ حدیث شریف میں ہے: ہدایت کی دعوت دینے والے کو اپنے اجر کے ساتھ متبع لوگوں کا اجر بھی ملتا ہے لیکن ان کے اجر کم نہیں ہوتے اور برائی کی طرف میلانے والوں کو ان کی ماننے والوں کے گناہ بھی ملتے ہیں لیکن ماننے والوں کے گناہ کم ہو کر نہیں ۔[3] مصیبت میں مشرکین کا طرزِ عمل سوال : مصیبت میں مشرکین کا طرز عمل کیا ہوتا تھا؟ جواب : مصیبت میں وہ خالص اللہ کو پکارتے، فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو تم اسی کی طرف لاچار ہو کر لپکتے ہو پھر جب وہ تم سے تکلیف [1] بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [2] تیسیر القرآن: ۲/ ۵۱۲۔ [3] صحیح مسلم، کتاب العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ: ۲۶۷۶۔