کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 751
((مَنْ رَأنِی فِی الْمَنَامِ فَقَدْ رَاٰنِی فَإِنَّ الشَّیْطَانَ لا یَتَخَیَّلُ بِی وَرُؤْیَا الْمُؤمِنِ جُزئٌ مِن ستَّۃٍ وَاَرْبَعِیْنَ جُزئًا مِن النُّبُوَّۃِ۔))[1] ’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا ہے تو تحقیق اس نے مجھے ہی دیکھا ہے پس بے شک شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا اور مومن کا خواب نبوت کے حصوں میں سے چھیالیسواں حصہ ہے۔‘‘ ابن سیرین رحمہ اللہ سے جب کوئی آدمی کہتا کہ میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے تو وہ اس سے پوچھتے کہ ’’جس کو تم نے دیکھا ہے اس کی صفات بیان کرو۔‘‘ اگر وہ آپ کی صفات کے خلاف بات کرتا تو وہ کہتے کہ ’’تم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا ہے۔[2] سوال : کن سے خواب کی تعبیر پوچھنا منع ہے؟ جواب : حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، چار قسم کے لوگوں سے تعبیر پوچھنا ناجائز ہے: ۱۔ بے دین لوگ جو شریعت کے پابند نہ ہوں ۔ ۲۔ عورتوں سے، عورتیں ناقص ہوتی ہیں ۔ ۳۔ جاہلوں سے جو علم دینی سے بخوبی واقف نہ ہوں ، دنیاوی علوم میں خواہ وہ ولایت پاس (P.H.D ) ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ معبر کو علم تفسیر وحدیث کا عالم ہونا چاہیے۔ ۴۔ دشمنوں سے۔ کیونکہ دشمن بھی خیر وبرکت سے خالی ہوتے ہیں ۔ نیز ان سے یہ بھی اندیشہ ہے کہ وہ خواب کی تعبیر بری بتا دین اور یہ ظاہر ہے کہ تعبیر جیسی بتائی جائے گی، ویسی ہی واقع ہو جاتی ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْہِ تَسْتَفْتِیٰنِo﴾ (یوسف: ۴۱) (حضرت یوسف علیہ السلام جیل میں فرماتے ہیں ، کہ اے میرے جیل کے رفیقو!) جس جس بات کی تم نے مجھ سے تعبیر پوچھی ہے وہ میری تعبیر کے مطابق ہی بحکم الٰہی واقع ہو جائے گی۔‘‘ (تعبیر الرؤیا: ص ۶۲) نظر کا لگنا اور اس کے مسائل سوال : نظر لگ جانا، کیا یہ حقیقت ہے؟ جواب : جی ہاں !نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((اَلْعَیْنُ حَقٌّ۔))[3] ’’نظر لگ جانا حق ہے۔‘‘ [1] صحیح البخاری، باب من رأی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام: ۶۹۹۴۔ [2] فتح الباری: ۱۵/ ۴۷۔ دیکھئے: تعبیر الرؤیا: ص ۳۳۔ ۳۴۔ [3] بخاری، کتاب الطب، باب العین حق: ۵۷۴۰۔