کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 746
خوابوں کے مسائل سوال : خوابوں کی کیا حقیقت ہے؟ جواب : خوابوں کے متعلق دنیا میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ، مسلم اور غیر مسلم مفکرین علماء اور محققین نے اپنی اپنی دسترس کے مطابق اس موضوع پر طبع آزمائی کی ہے ہم اس موقع پر اہل اسلام کے مختلف نظریات کو پیش کرنے کی اجازت چاہیں گے علماء بنیادی طور پر خوابوں کی حقیقت کے متعلق تین گروہوں میں تقسیم ہیں : ۱۔ پہلا گروہ وہ ہے جو خوابوں کی حقیقت کا یکسر منکر ہے ان کا کہنا ہے کہ خواب محض توہمات، انتشار ذہنی اور لاشعوری احساسات کا نام ہے اس کی حقیقت اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ۲۔ خواب شرعی حجت اور علم کی ایک قسم ہے، کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ خواب دیگر شرعی دلائل کی طرح حجت اور قابل اتباع دلیل ہیں اور یہ علم یقینی کا فائدہ دیتے ہیں ، یہ لوگ خواب کو بطور دلیل بھی ذکر کرتے ہیں ۔ ۳۔ خوابوں کے بارے میں تیسرا اور صحیح نقطہ نظر، خوابوں کے متعلق تیسرا نظریہ ہمارے ناقص علم کے مطابق حقیقت سے انتہائی قریب ہے افراط و تفریط سے بچتے ہوئے بعض علماء نے درمیانی راہ اختیار کی ہے ان کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق خوابوں کی دو قسمیں ہیں : (۱) انبیاء کے خواب۔ (۲) عام آدمی کے خواب۔ ۱۔ انبیاءعلیہم السلام کے خواب:…انبیاء علیہم السلام کے خواب وحی کی ایک قسم اور قابل اتباع دلیل ہیں جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : (رُؤْیَا الْاَنْبِیَاء وَحْيٌّ) [1] کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں ۔ سیّدنا ابراہیم علیہ السلام کا خواب دیکھ کر بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دینا اس کی واضح ترین دلیل ہے۔ جبریل علیہ السلام کے نزول سے قبل آپ پر وحی خوابوں کی صورت میں ہی کی جاتی رہی ہے۔[2] حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’انبیاء علیہم السلام کے خواب بخلاف امتی وحی ہوتے ہیں اور وحی ہر قسم کے خلل سے محفوظ ہوتی ہے۔‘‘[3] [1] مستدرک علی الصحیحین: ۴/ ۴۷۳۔ [2] صحیح بخاری، باب اول ما بدیٔ بہ: ۶۹۸۲۔ [3] فتح الباری: ۱۵/ ۴۳۹۔