کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 719
قدر بڑھتے جائیں گے اس کے ایمان میں اضافہ اور ترقی ہوتی چلی جائے گی۔ اگر اطاعت کا کوئی عمل غیر واجب ہو یا واجب ہو مگر عذر کے باعث چھوڑے تو یہ نقص ہے مگر اس پر ملامت نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو عقل میں کمزور اور دین میں کمی والی بتایا۔ ان کے دین میں نقص کی وجہ یہ بتائی ہے کہ جب ان کو ایام مخصوصہ آتے ہیں تو یہ نماز چھوڑ دیتی ہیں اور روزے نہیں رکھتی ہیں باوجودیکہ ان کے اس عذر سے نماز روزہ چھوڑنے پر کوئی ملامت نہیں بلکہ حکم ہے کہ ان دنوں میں نمازیں نہ پڑھیں اور نہ روزے رکھیں لیکن چونکہ مردوں کے مقابلے میں یہ انہیں چھوڑتی ہیں جبکہ مرد کر رہے ہوتے ہیں تو ان کے دین کو ناقص کہا گیا ہے۔ [1] امانت سے کیا مراد ہے؟ سوال : امانت سے کیا مراد ہے؟ جواب : الانفال آیت نمبر ۲۷ میں اللہ عزوجل فرماتے ہیں : ’’اے مومنو اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ حالانکہ تم جانتے ہو۔‘‘ امانتوں جن میں خیانت سے روکا گیا ہے ان سے مراد وہ تمام ذمہ داریاں ہیں جو کسی پر اعتبار کر کے اس کے سپرد کی جائیں خواہ وہ عہد و وفا کی ذمہ داریاں ہوں یا اجتماعی معاہدات کی یا جماعت کے رازوں کی یا شخصی وجماعتی اموال کی یا کسی ایسے عہد سے ومنصب کی جو کسی شخص پر بھروسا کرتے ہوئے جماعت اس کے حوالے کرے۔[2] کیا مال و اولاد فتنہ ہیں ؟ سوال : کیا مال و اولاد فتنہ ہیں ؟ جواب : جی ہاں ! اللہ فرماتے ہیں : ’’سوائے اس کے نہیں تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں اور بے شک اللہ کے پاس اجر عظیم ہے۔‘‘ (الانفال: ۲۸) آیت پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے اس کے لیے کوشاں شخص وہ تو کامیاب ہے لیکن جس کی اولاد نے یا مال نے کیونکہ یہی دو چیزیں جو انسان کو نیکیوں اور عبادت سے مشغول رکھتی ہیں ۔ اسے اجر عظیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا یہ چیزیں اس کے لیے آزمائش بن گئیں ۔ یہ اس کے لیے نقصان دہ [1] محمد بن صالح العثیمین، احکام ومسائل خواتین: ص۲۹ تا ۳۲۔ [2] تفہیم القرآن: ۲/ ۱۳۹۔