کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 639
کے اول وقت میں پڑھنا۔‘‘ صلح کے لیے جھوٹ بولنا سوال : کیا دو عورتوں کی صلح کرواتے ہوئے جھوٹ بولا جا سکتا ہے؟ جواب : جھوٹ ام الخبائث ہے اس کی تنکیر میں انتہائی شدید احادیث مروی ہیں لیکن دو مومنوں کی صلح کی غرض سے اس کا بولنا بھی جائز ٹھہرایا گیا ہے جس سے مومنوں کی آپس کی صلح وصفائی کی حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ یہ کس قدر عظیم امر ہے حدیث میں آتا ہے: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: کیا میں تمہیں ایسے کام کی خبر نہ دوں جو نماز روزہ اور صدقہ سے بھی افضل ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا بتائیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو شخصوں کے درمیان صلح کروانا، کیونکہ دو آدمیوں کے درمیان فساد ڈالنا (دین کو) مونڈنے والا (برباد کرنے والا) کام ہے۔[1] نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کے درمیان صلح کرنے کے لیے اگر کوئی شخص (اپنی طرف سے) کوئی اچھی بات کسی فریق کی طرف منسوب کر دے یا کوئی اچھی بات کہہ دے تو وہ جھوٹا نہیں ہے۔[2] اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کے معانی سوال : اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کے کیا معنی ہیں ؟ جواب : اللہ عزوجل نے جب شیطان پر لعنت ڈال کر اسے اپنے دربار سے دھتکار دیا تو وہ آگے سے چیلنج کرتا ہوا کہتا ہے: میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر شدہ حصہ اپنی طرف کر لوں گا، میں انہیں لازماً بھٹکاؤں گا، آرزوئیں دلاؤں گا وہ جانوروں کے کان کاٹیں گے میں انہیں حکم دوں گا وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کا باعث بنیں گے۔ الخ[3] تخلیق میں تبدیلی کے کئی معانی میں سے ایک معنی ابن کثیر رحمہ اللہ نے یہ بیان کیا ہے ان کا کہنا ہے: ’’ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا اور گدوانا جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے مروی ہے کہ گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن وخوبصورتی کے لیے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں جن پر [1] ترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ۔ [2] بخاری، کتاب الصلح، باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس، بحوالہ تیسیر القرآن: ۱/ ۴۶۲۔ [3] دیکھئے: النساء: ۱۱۸۔ ۱۱۹۔