کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 619
فرش پر…؟ جواب : دیوار بھی صعید (یعنی پاک مٹی) ہی ہے تو دیوار مٹی کی بنی ہوئی ہویا پتھر سے یا پختہ اینٹوں سے، اس سے تیمم کر لینا جائز ہے۔ لیکن اگر اس پر لکڑی لگا دی گئی ہو یا پینٹ (رنگ) کر دیا گیا ہو تو ضروری ہے کہ اس پر غبار کا اثر بھی ہو تب اس سے تیمم کر لینے میں کوئی حرج نہیں اور یہ ایسے ہی ہوگا گویا اس نے زمین (یا مٹی) سے تیمم کیا ہو۔ کیونکہ مٹی زمین کا مادہ ہے تو اگر ان پر غبار نہ ہو تو یہ چیزیں (لکڑی اور رنگ وغیرہ) ’’صعید‘‘ (یعنی مٹی) کی جنس سے نہیں ہیں تو ان سے تیمم بھی جائز نہ ہوگا اور یہی حکم فرش کا ہے یعنی اگر اس پر غبار ہو تو تیمم کر لے ورنہ نہیں کیونکہ یہ مٹی کی جنس سے نہیں ہے۔ [1] سوال : اگر مریض کے جسم پر نجاست لگی ہو تو کیا وہ اس کے لیے تیمم کر سکتا ہے؟ جواب : وہ اس کے لیے تیمم نہیں کر سکتا۔ مریض کے لیے اگر ممکن ہو کہ وہ اس نجاست کو دھو سکتا ہے تو دھو لے ورنہ اسی حالت میں بغیر تیمم کے نماز پڑھے کیونکہ نجاست کے دور کرنے میں تیمم کا کوئی اثر نہیں ہے۔ بلکہ مطلوب یہ ہے کہ جسم نجاست سے صاف ہو۔ تو اگر اس کے لیے تیمم کرے گا تو اس سے نجاست زائل نہ ہوگی۔ نیز یہ بھی ہے کہ تیمم ازالہ نجاست کے لیے شروع نہیں کیا گیا ہے اور عبادت کی بنیاد سراسر اتباع (قرآن وسنت) ہی پر ہے۔[2] شرک اور اس کے مسائل سوال : کیا شرک قابل معافی جرم ہے؟ جواب : شرک ناقابل معافی جرم ہے، قرآن میں اللہ عزوجل فرماتے ہیں : ﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾ (النسآء: ۴۸) بلاشبہ اللہ اپنے ساتھ شرک کیا جانا پسند نہیں کرتے جبکہ اس کے علاوہ جسے چاہیں جو چاہیں معاف کر دیں ۔‘‘ ۱۔ سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ کہ تم اللہ کا شریک بناؤ، حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔‘‘[3] [1] محمد بن صالح عثیمین، احکام ومسائل خواتین: ۱۷۷۔ [2] محمد بن صالح عثیمین ، احکام ومسائل خواتین: ص ۱۷۸۔ [3] صحیح بخاری، کتاب المجاربین، باب اثم الزناۃ۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان کون شرک اقبح الذنوب۔