کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 579
﴿لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ﴾ اس آیت میں عیسائیوں ، یہودیوں ، اہل مکہ وغیرہ سب کا رد ہو جاتا ہے۔ ﴿وَلَمْ یَکُنْ لَّـہٗ کُفُوًا اَحَدٌ﴾ ’’کُفُوًا‘‘ ہم مثل ، جوڑ، جو برابر کا ہو۔ ﴿قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ﴾ کہنے سے اولاد اور کفو کی خود بخود نفی ہو جاتی ہے مگر ان کو پھر بھی الگ ذکر کیا گیا۔[1] سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: بنی آدم نے مجھے جھٹلایا اور یہ اسے مناسب نہ تھا اور مجھے گالی دی اور یہ اسے مناسب نہ تھا اس کا مجھے جھٹلانے کا مطلب یہ ہے کہ جو وہ یہ کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ ہرگز پیدا نہ کروں گا حالانکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے سے زیادہ مشکل نہیں ہے اور اس کا مجھے گالی دینے کا مطلب ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے حالانکہ میں اکیلا ہوں بے نیاز ہوں نہ میری کوئی اولاد ہے اور نہ میں کسی کی اولاد ہوں اور میرے جوڑ کا تو کوئی دوسرا ہے ہی نہیں ۔[2] [1] تفسیر القرآن الکریم لابن محمد، تحت السورۃ [2] بخاری، کتاب التفسیر۔