کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 57
مقدمہ عورت اور مرد دونوں کا مقصد تخلیق اللہ عزوجل نے یوں بیان فرمایا ہے: ﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِِنسَ اِِلَّا لِیَعْبُدُوْنo﴾ (الذّٰریٰت: ۵۶) ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو فقط اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘ دونوں کے لیے اللہ عزوجل نے عبادت کا اجر بھی یکساں رکھا ہے یہ نہیں کہ مرد کو نماز پڑھنے کا اجر زیادہ ملے تو عورت کو کم۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ دونوں کے طبعی خواص کے پیش نظر طریق عبادت کو مختلف کر دیا، مرد کے لیے لازم ہے کہ نماز باجماعت کا اہتمام کرے جبکہ عورت کے لیے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اسلام دونوں صنفوں کے ذمے کچھ فرائض بھی مقرر کرتا ہے جنہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ذیل میں ہم ایک عورت کی ذمہ داری کا جائزہ لیتے ہیں جو اسلام نے اسے سونپی ہے۔ دنیا میں عورت کے دو فریضے خلاق عالم نے اس دنیا میں عورت کے ذمے کیا فریضہ مقرر فرمایا اس کے جواب کی تلاش میں قرآن وسنت کی ورق گردانی کی جائے تو دو چیزیں سامنے آتی ہیں : (۱) خاوند کو سکون فراہم کرنا (۲)تولید نسل انسانی ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْہَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّرَحْمَۃً اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo﴾ (الروم: ۲۱) ’’اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہی سے بیویاں پیدا کیں ، تاکہ تم ان کی طرف (جاکر) آرام پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان دوستی اور مہربانی رکھ دی، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور کرتے ہیں ۔‘‘ ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنتی عورتوں کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ((وَنِسَآئِکُم مِنْ أَہْلِ الْوُدُوْدِ الوَلُودِ الْعُؤُوْدِ عَلَی زَوْجِہَا الَّتِی إِذَا غَضِبَ