کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 548
سورۃ القلم اس کا نام نٓ بھی ہے اور القلم بھی۔ دونوں الفاظ سورت کے آغاز ہی میں موجود ہیں ۔[1] زمانہ نزول اس کے مضمون سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب مکے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی تھی۔[2] مضمون اس میں تین مضامین بیان ہوئے ہیں ، مخالفین کے اعتراضات کا جواب ان کو تنبیہ اور نصیحت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبر واستقامت کی تلقین۔[3] [1] تفہیم: ۶/ ۵۶۔ [2] ایضًا۔ [3] ایضًا۔