کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 524
پہلے میں نے اس سے مل ۔لیا آپ نے فرمایا: اللہ تجھ پر رحم کرے ایسا تو نے کیوں کیا؟ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! چاندنی رات میں اس کے خلخال کی چمک نے مجھے بے تاب کر دیا، آپ نے فرمایا: اس سے قربت نہ کرنا جب تک کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کفارہ نہ ادا کر دے۔[1] البتہ اگر آدمی اس معصیت کا مرتکب ہوچکا ہو تو پھر بھی اسے ایک کفارہ ہی ادا کرنا ہے نیز عورت کے ذمہ کفارہ نہیں کیونکہ اس کا کوئی قصور نہیں ۔ واللہ اعلم [1] ابوداود: ۲۲۲۱، حسن بشواہد۔ تفسیر ابن کثیر: ۵/ ۳۷۰۔