کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 494
سورۃ یٰس آغاز ہی کے دو حرفوں کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔[1] زمانہ نزول انداز بیان پر غور کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اس سورئہ کا زمانہ نزول یاتو مکہ کے دور متوسط کا آخری زمانہ ہے یا پھر یہ زمانہ قیام مکہ کے آخری دور کی سورتوں میں سے ہے۔[2] موضوع ومضمون کلام کا مدعا کفار قریش کو نبوت محمدی پر ایمان نہ لانے اور ظلم واستہزاء سے اس کا مقابلہ کرنے کے انجام سے ڈرانا ہے اس میں انداز کا پہلو غالب اور نمایاں ہے مگر بار بار انداز کے ساتھ استدلال سے تفہیم بھی کی گئی ہے۔[3] فضیلت سورۃ یٰسین میں قرآن مجید کی دعوت کو بڑے پر زور دلائل کے ساتھ اور نہایت موثر پیرائے میں پیش کیا گیا ہے، بندہ مومن کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے اور عالم آخرت کا نقشہ سامنے آجاتا ہے بہتر ہے کہ اس کی تلاوت کے ساتھ ساتھ ترجمہ بھی ذہن میں رکھا جائے اور جو لوگ ترجمہ نہیں جانتے وہ ساتھ ساتھ اردو ترجمہ پڑھتے جائیں تاکہ اس سورت سی برکات سے مستفید ہوا جائے۔ یاد رہے کہ سورۃ یٰسین کی فضیلت میں جتنی احادیث ملتی ہیں ان میں سے کوئی بھی حدیث صحیح نہیں ہے وہ سب کی سب ضعیف یا موضوع ہیں ۔[4] [1] تفہیم القرآن: ۴/ ۲۴۴۔ [2] ایضًا۔ [3] ایضًا۔ [4] تیسیر القرآن: ۳/ ۶۷۳۔