کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 482
لے لیا اور اس کی بنیاد امام احمد کی روایت ہے کہ آپ نے ان چاروں کو ایک چادر میں لے کر کہا: (اَللّٰہُمَّ ہٰؤلَآئِ اہلُ بَیتی…) ’’یا اللہ یہ میرے گھر والے ہیں ۔‘‘ حالانکہ اس سے آپ کی مراد صرف یہ تھی کہ اے اللہ تطہیر کے اس پاکیزہ عمل میں میری اولاد کو شامل کر لے اور یہ آپ نے اس لیے کیا کہ سیاق وسباق میں خطاب صرف ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا۔[1] ﴿وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ…﴾ نماز وزکوٰۃ کو اس لیے خاص کیا کیونکہ یہ مالی اور بدنی عبادات کی اصل ہیں پھر عموم کو اختیار کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو ہر مسنون کام میں اختیار کرنے کا حکم دیا۔[2] مطلب یہ ہے کہ ایسی ناپاکی کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اے ازواج النبی تم جاہلیت کے دور والی نمود ونمائش کی بجائے نمازیں قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خرچ کے مطالبات کر کے پریشان نہ کرو، اس طرح اللہ تمہارے دلوں سے ہر طرح کی نجاست کو دور کر کے پاک وصاف بنا دے گا۔[3] ﴿وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی﴾ یعنی تم اس مقام احسان کو یاد کرو کہ جب تمہیں اللہ نے ایسے گھروں میں ٹھہرا دیا کہ جن میں اللہ کی آیات و احادیث پڑھی جاتی ہیں تم ان کا ذکر کرو ان میں غور و فکر کرو تاکہ اللہ کی نصائح سے مستفید ہو سکو۔ یا اس کا معنی یہ ہے کہ یہ لوگوں کو بتاؤ تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کر سکیں اور ان کی ہدایت کو اپنا سکیں یا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ تم انہیں یاد کرنے کے لیے ان کی مسلسل تلاوت کرتی رہو اور اور کثرت تلاوت کو فراموش نہیں کرنا۔ امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں : اہل تفسیر کے ہاں کتاب اللہ سے قرآن اور حکمت سے مراد سنت ہے۔[4] [1] تیسیر القرآن: ۳/ ۵۸۲۔ [2] فتح القدیر: ۴/ ۳۴۴۔ [3] تیسیر القرآن: ۳/ ۵۸۲۔ ۵۸۳۔ [4] فتح القدیر: ۴/ ۳۴۸۔