کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 464
سورۃ القصص آیت ۲۵ کے اس فقرے سے ماخوذ ہے ﴿وَ قَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ﴾ یعنی وہ سورۃ جس میں القصص کا لفظ آیا ہے لغت کے اعتبار سے قصص کے معنی ترتیب وار بیان کرنے کے ہیں اس لحاظ سے یہ لفظ باعتبار معنی بھی اس سورۃ کا عنوان ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مفصل قصہ بیان ہوا ہے۔ زمانہ نزول سورۃ نمل کے دیباچے میں سیّدنا ابن عباس اور سیّدنا جابر بن زید رضی اللہ عنہما کا یہ قول ہم نقل کر چکے ہیں کہ سورۃ الشعراء، سورۃ نمل اور قصص یکے بعد دیگرے نازل ہوئیں ۔[1] موضوع ومباحث اس کا موضوع ان شبہات واعتراضات کو رفع کرنا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پھر وارد کیے جا رہے تھے اور ان عذرات کو قطع کرنا ہے جو آپ پر ایمان نہ لانے کے لیے پیش کیے جاتے تھے۔[2] [1] تفہیم القرآن: ۳/ ۶۱۰۔ [2] ایضاً۔