کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 451
جاہلیت میں اس کا بھی رواج نہ تھا عورتیں اپنے سینے پر کچھ نہ ڈالتی تھیں بسا اوقات گردن اور بال چوٹی بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں ۔[1] اس آیت کے نزول کے بعد مسلمان عورتوں میں دوپٹہ رائج کیا گیا جس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ آج کل کی صاحبزادیوں کی طرح بس اسے بل دے کر گلے کا ہار بنا لیا جائے بلکہ یہ تھا کہ اسے اوڑھ کر سر، کمر، سینہ سب اچھی طرح ڈھانک لیے جائیں ۔[2] لفظ خُمر خمر خمار کی جمع ہے خمار کہتے ہیں ہر اس چیز کو جو ڈھانپ لے چونکہ دوپٹہ سر کو ڈھانپ لیتا ہے اس لیے اسے بھی خمار کہتے ہیں ۔[3] ابدی محرم رشتہ دار قرآن کریم میں اس مقام پر اور بعض دوسرے مقامات پر بارہ قسم کے لوگوں کا یا رشتہ داروں کا ذکر آیا ہے، جن سے حجاب کی ضرورت نہیں البتہ ستر کے احکام بدستور برقرار رہیں گے بالفاظ دیگر ان مذکورہ بارہ قسم کے لوگوں یا رشتہ داروں کے سامنے عورت اپنی زیب وزینت کا اظہار کر سکتی ہے۔ [4] غیر عورتوں اور ہیجڑوں سے بھی حجاب کا حکم قرآن کریم کے الفاظ ہیں : اَوْ نِسَآئِہِنَّ، (یا اپنی عورتوں سے بھی اظہار زیب وزینت میں کوئی حرج نہیں ) یہ نویں قسم ہوئی اور اپنی عورتوں سے مراد آپس میں میل ملاقات رکھنے والی مسلمان عورتیں ہیں جو ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتی پہچانتی اور ایک دوسرے پر اعتبار رکھتی ہوں ، رہی دوسری غیر مسلم مشتبہ اور ان جانی تو ایسی عورتوں سے اپنی زیب وزینت چھپانے اور حجاب کا ایسا ہی حکم ہے جیسے غیر مردوں سے ہے وجہ یہ ہے کہ عورتیں ہی ہوتی ہیں جو قحبہ گری کی دلالی بھی کرتی ہیں نوخیز اور نوجوان لڑکیوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسا کر غلط راہوں پر ڈال کر شیطان کی پوری نمائندگی کرتی ہیں اور ایک گھر کے بھید کی باتیں دوسرے گھر میں بیان کر کے فحاشی پھیلاتی اور اس کی راہیں ہموار کرتی ہیں ایسی بدمعاش قسم کی عورتوں سے پرہیز کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہیجڑوں مخنث یا زنانہ وضع قطع رکھنے والے مردوں سے بھی حجاب کا حکم دیا ہے، دور نبوی کا ایک واقعہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے، گھر میں ایک ہیجڑا تھا وہ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بھائی عبداللہ بن ابی ربیعہ سے کہنے لگا اگر اللہ نے کل طائف فتح کرا دیا تو [1] تفسیر ابن کثیر: ۳/ ۶۵۶۔ [2] تفہیم القرآن: ۳/ ۳۸۶۔ [3] تفسیر ابن کثیر: ۳/ ۶۵۶۔ [4] تیسیر القرآن: ۳/ ۲۶۲۔