کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 449
میں عورتیں تو منہ پر نقاب ڈال کر جاتی تھیں کہ مرد اُن کو نہ دیکھیں مگر مردوں کو کبھی یہ حکم نہیں ہوا کہ وہ بھی نقاب اوڑھیں تاکہ عورتیں ان کو نہ دیکھیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے معاملے میں حکم مختلف ہے۔[1] تاہم یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ہے کہ عورتیں اطمینان سے مردوں کو گھوریں اور ان کے حسن سے آنکھیں سینکیں ۔[2] ہاتھوں اور چہرے کو ڈھانپنا بعض علماء نے قرآن کریم کے الفاظ اِلَّا مَا ظَہَر مِنْہَا سے یہ مراد لی ہے کہ حجاب سے چہرہ اور ہاتھ مستثنیٰ ہیں یعنی عورتوں کو غیر مردوں سے بھی چہرہ اور ہاتھ چھپانے کی ضرورت نہیں یہ تو جیہ درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے۔ ۱۔ اس آیت میں احکام حجاب کی رخصتوں کا ذکر ہے نہ کہ احکام حجاب کی پابندیوں کا یعنی ذکر تو یہ چل رہا ہے کہ فلاں فلاں ابدی محرم رشتہ داروں سے بھی حجاب کی ضرورت نہیں … لہٰذا اگر ان حضرات کے مصداق مَا ظَہَرَ مِنْہَا سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہی لے لیے جائیں تو بھی چنداں فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس آیت میں مذکور اشخاص کے سامنے ہاتھ اور چہرہ کھلے رکھنے کا ہی تو ذکر ہے۔ ۲۔ اس بات کے باوجود بھی یہ توجیہ غلط ہے کیونکہ ما ظہر منہا میں ھا کی ضمیر زِیْنَتَہُنَّ کی طرف راجع جو کہ قریب کی مذکور ہے نہ کہ اعضائے بدن کی طرف جن کا یہاں ذکر ہی موجود نہیں … یعنی اگر جلباب یا بڑی چادر یا برقع کسی وقت ہوا سے اٹھ جائے یا غفلت یا کسی دوسرے اتفاق کی بنا پر عورت کا زیور یا زینت یا اس کا کچھ حصہ ظاہر ہو جائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین نے ما ظہر منہا سے یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ ۳۔ پیچھے واقعہ افک میں ایک طویل حدیث جو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے گزر چکی ہے اس میں وہ خود فرماتی ہیں کہ میں نے صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ کو جب بیدار ہو کر اپنے پاس کھڑا دیکھا تو میں نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا کیونکہ اس سے پہلے (سورۃ احزاب میں ) پردہ کا حکم نازل ہو چکا تھا پھر بعد میں کیا یہ حکم منسوخ ہوگیا تھا؟ ۴۔ تمام بدن میں چہرہ ہی ایسا عضو ہے جس میں غیروں کے لیے دلکشی کا سب سے زیادہ سامان ہوتا ہے پھر اگر اسے ہی پردہ سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے تو باقی احکام حجاب کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے؟ اب اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر ان کے شاگردوں نے پھر بعض فقہاء حنفیہ نے (الا ماظہر منہا) سے یہ مراد لیا ہے۔ کہ ہاتھ اور چہرہ حکم حجاب سے [1] ج۶/ ص۱۰۱۔ [2] تفہیم القرآن: ۳/ ۳۸۴۔