کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 334
مساکین وہ لوگ ہیں جو عام حاجت مندوں کی بہ نسبت زیادہ خستہ حال ہوں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ ایسے لوگوں کو مستحق امداد ٹھہرایا ہے جو اپنی ضروریات کے مطابق ذرائع نہ پا رہے ہوں اور سخت تنگ حال ہوں مگر نہ تو ان کی خودداری کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت دیتی ہو اور نہ ان کی ظاہری پوزیشن ایسی ہو کہ کوئی انہیں حاجت مند سمجھ کر ان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے۔ چنانچہ حدیث میں اس کی تشریح یوں آئی ہے کہ ((اَلْمِسْکِیْنُ الَّذِیْ لَا یَجِدُ غِنًی یُغْنِیْہِ وَ لَا یُفْطَنُ لَہٗ فَیُتَصَدَّقُ عَلَیْہِ وَ لَا یَقُوْمُ فَیَسْأَلُ النَّاسَ)) ’’مسکین وہ ہے جو اپنی حاجت بھر مال نہیں پاتا اور نہ پہچانا جاتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے اورنہ کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا ہے۔‘‘ گویا وہ ایسا شریف آدمی ہے جو غریب ہو۔[1] گویا احتیاج کے لحاظ سے فقیر اور مسکین میں کوئی فرق نہیں ان میں اصل فرق یہ ہے کہ فقیر وہ ہے جو لوگوں سے سوال کرتا پھرے اور مسکین وہ ہے جو احتیاج کے باوجود قانع رہے اور سوال کرنے سے پرہیز کرے جسے ہمارے ہاں سفید پوش کہا جاتا ہے۔[2] فقراء:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں صدقہ مال دار پر اور تندرست و توانا پر حلال نہیں ۔[3] دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقہ کا مال مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغور نیچے سے اوپر تک انہیں ہٹا کٹا، قوی و تندرست دیکھ کر فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن امیر شخص کا اور قوی طاقتور کماؤ شخص کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔[4] مساکین:… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : مسکین یہی گھوم گھوم کر ایک لقمہ دو لقمے ایک کھجور دو کھجور لے کر ٹل جانے والے نہیں ۔ لوگوں نے دریافت کیا :اے اللہ کے رسول! پھر مساکین کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کفایت کے مطابق نہ پائے اور نہ اپنی ایسی حالت رکھے کہ کوئی دیکھ کر پہچان لیاور کچھ دے دے نہ کسی سے خود کوئی سوال کرے۔[5] محنت کرنے والے کو معاوضہ لے لینا چاہیے یعنی زکوٰۃ کو وصول کرنے والے، تقسیم کرنے والے اور اس کا حساب کتاب رکھنے والا سارا عملہ اموال [1] تفہیم القرآن: ۲/۲۰۵۔ [2] تیسیر القرآن: ۲/۲۲۶۔ [3] سنن ابو داود، کتاب الزکاۃ، باب من یعطی من الصدقۃ وحد الغنی، رقم: ۱۶۳۴۔ سنن ترمذی: ۶۵۲۔ صحیح ہے۔ [4] سنن ابو داود، کتاب الزکاۃ، حوالہ سابقہ: ۱۶۳۳۔ صحیح ہے۔ [5] صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، باب قول اللہ عزوجل لا یسئلون الناس الحافا، رقم: ۱۴۷۹۔ صحیح مسلم: ۱۰۳۹۔ (تفسیر ابن کثیر: ۲/۴۴۹-۴۵۰)۔