کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 311
سورۃ الاعراف ﴿وَ اسْئَلْہُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ﴾ سے لے کر ﴿وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَہُمْ﴾ تک ۸ آیتوں کے علاوہ باقی تمام سورت مکی ہے۔[1] یہ سورۂ انعام سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی اور اس سورت کا نام اعراف اس لیے ہے کہ اس میں جنت و دوزخ کے درمیانی مقام اعراف اور اصحاب اعراف کا ذکر آیا ہے۔[2] بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔‘‘ تفسیر:… یہ خطاب ساری اولاد آدم سے ہے اگرچہ یہ ایک خاص سبب پر وارد ہوا ہے۔ بہرحال لفظ کی عمومیت معتبر ہے نہ کہ سبب کی خصوصیت۔ زینت سے وہ لباس مراد ہے جس کو پہن کر انسان زیب و زینت اختیار کرتے ہیں ۔ انہیں حکم ہوا کہ نماز کے لیے مسجد حاضر ہوتے ہوئے اور طواف کے لیے زینت اختیار کریں ۔ نیز اس آیت سے نماز میں شرم گاہ کو ڈھانپنے پر استدلال کیا گیا ہے اسی رجحان کو جمہور اہل علم نے اختیار کیا ہے بلکہ اسے ڈھانپنا ہر حال میں واجب ہے چاہے آدمی تنہا ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ اس بات پر صحیح احادیث دلالت کناں ہیں ۔[3] اس آیت میں مشرکوں کا ردّ ہے وہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے جیسے کہ پہلے گزرا۔ [1] فتح القدیر: ۲/۲۳۴۔ [2] تیسیر القرآن: ۲/۲۸۔ [3] فتح القدیر: ۲/۲۵۰۔