کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 256
آپ فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ کی نو بیویاں تھیں جن میں سے آپ نے آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں ۔[1] صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا دن بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتے تھے۔[2] سیّدنا عروہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو بڑی عمر میں جب معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تو خیال کیا کہ آپ کو سیّدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوری محبت ہے اگر میں اپنی باری انہیں دے دوں تو کیا عجب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں ۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات گزارنے میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے درجے پر رکھا کرتے تھے۔ عموماً ہر روز سب بیویوں کے ہاں آتے بیٹھتے بولتے چالتے مگر ہاتھ نہ بڑھاتے، پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے ہاں جاتے اور رات وہیں گزارتے۔ پھر سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ سنایا جو اوپر گزرا ہے۔[3] صحیح بخاری میں ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ایک بڑھیا عورت جو اپنے خاوند کو دیکھتی ہے کہ وہ اس سے محبت نہیں کر سکتا بلکہ اسے الگ کرنا چاہتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ میں اپنا حق چھوڑتی ہوں آپ مجھے جدا نہ کریں ، تو آیت دونوں کو رخصت دیتی ہے۔[4] یہی صورت اس وقت بھی ہے جب کسی کی دو بیویاں ہوں اور ایک کو وہ اس کے بڑھاپے اور بدصورتی کی وجہ سے محبت نہ کرتا ہو اور وہ اسے جدا کرنا چاہتا ہو اور یہ بوجہ اپنے لگاؤ یا بعض اور مصالح کے الگ ہونا پسند نہ کرتی ہو تو اسے حق ہے کہ اپنے بعض یا سب حقوق سے الگ ہو جائے اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے اسے جدا نہ کرے۔[5] [1] مسند الشافعی: ۲/۲۸۔ اس میں مسلم بن خالد ضعیف ہے مگر یہ خبر درست ہے۔ (دیکھیں : صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب کثرۃ النساء: ۵۰۶۸۔ صحیح مسلم، کتاب الرضاع: ۱۴۶۵)۔ [2] صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب المرأۃ تہب یومہا: ۵۲۱۲۔ صحیح مسلم، کتاب الرضاع، باب جواز ہبتہا: ۱۴۶۳۔ ابو یعلی: ۴۶۲۱۔ [3] سنن ابو داود، کتاب النکاح، باب فی القسم بین النساء: ۲۱۳۵۔ الحاکم: ۲/۱۸۶۔ صحیح عند الالبانی۔ [4] صحیح البخاری، کتاب المظالم،باب اذا حللہ من ظلمہ فلا رجوع فیہ: ۲۴۵۰۔ صحیح مسلم، کتاب التفسیر، باب فی تفسیر اٰیات متفرقۃ، رقم: ۳۰۲۱۔ ۱۳۔ [5] تفسیر ابن کثیر: ۱/۸۴۰-۸۴۱۔