کتاب: تفسیر النساء - صفحہ 237
﴿ الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّـهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا ﴾ ’’مرد عورتوں پر نگران ہیں ، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی اور اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے مالوں سے خرچ کیا۔ پس نیک عورتیں فرماں بردار ہیں ، غیرحاضری میں حفاظت کرنے والی ہیں ، اس لیے کہ اللہ نے (انھیں ) محفوظ رکھا اور وہ عورتیں جن کی نافرمانی سے تم ڈرتے ہو، سو انھیں نصیحت کرو اور بستروں میں ان سے الگ ہو جاؤ اور انھیں مارو، پھر اگر وہ تمھاری فرماں برداری کریں تو ان پر (زیادتی کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت بلند، بہت بڑا ہے۔‘‘ کے تو اللہ نے میراث میں دو حصے رکھے ہیں اور عورت کا ایک۔ رہا یہ کہ مرد کو اللہ نے عورتوں پر حاکم بنا دیا ہے اور عورتیں محکوم ہیں یا کوئی مرد اس انداز سے سوچنا شروع کر دے کہ اخراجات کی سب ذمہ داریاں تو مرد پر ڈال دی گئی ہیں ، پھر عورت کا میراث میں مفت میں ہی حصہ مقرر کر دیا گیا ہے یا یہ کہ مرد اپنی بیوی اور بال بچوں کی خوراک پوشاک رہائش، تعلیمی ذمہ داریوں کے مکمل اخراجات کا ذمہ دار بنا دیا گیا ہے کہ وہ جیسے بھی بن پڑے کما کر لائے اور اہل خانہ کی خدمت میں پیش کر دے تو اس طرح تو مرد اپنے اہل خانہ کا خادم ہوا، حاکم کیسے ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قسم کے غلط انداز فکر چھوڑ دو اللہ تعالیٰ نے جو احکام دئیے ہیں اس حیثیت سے دئیے ہیں کہ وہ ہر ایک بات کو خوب جانتا ہے، لہٰذا اگر تم میں سے کسی کو کچھ کسر معلوم ہوتی ہے تو اللہ سے اس کا فضل مانگا کرو، وہ بڑا صاحب فضل ہے اور تمہاری سب کمزوریاں اور کوتاہیاں دور کر دینے پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔[1] قَوّام کا مطلب تفسير:… قوام یا قیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا ادارے یا نظام کے معاملات کو درست حالت میں چلانے اور اس کی حفاظت و نگہبانی کرنے اور اس ضروریات مہیا کرنے کا ذمہ دار ہو۔[2] [1] تیسیر القرآن: ۱/۳۹۵۔ [2] تفہیم القرآن: ۱/۳۴۹۔