کتاب: تفسیر سورۂ یوسف - صفحہ 148
کہ آپ نے اپنے باپ اور بھائیوں سے کھانے کی قیمت لینے کو برا سمجھا۔ ایک قول یہ ہے کہ ایسا کرنے کی حکمت یہ تھی کہ وہ لوگ آپ کی فضیلت و مہربانی کو دیکھیں اور دوبارہ آپ کے پاس آنے کی طرف راغب ہوں ۔ "[1] "اس زمانے میں چیزوں کے عوض ہی چیزیں خریدی جاتی تھیں ۔ چناچہ وہ لوگ بھی اپنے ہاں سے کچھ چیزیں (بھیڑ بکریوں کی اون وغیرہ) اس مقصد کے لیے لے کر آئے تھے اور غلے کی قیمت کے طور پر اپنی وہ چیزیں انہوں نے پیش کردی تھیں ۔ "[2] آیات از63تا66﴿فَلَمَّا رَجَعُو. . . عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ﴾ ﴿ فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ قَالُوا يَاأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (63) قَالَ هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلَّا كَمَا أَمِنْتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِنْ قَبْلُ فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (64) وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا يَاأَبَانَا مَا نَبْغِي هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ (65) قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلَّا أَنْ يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ ﴾ |63| 12 جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ ہم سے تو غلہ کا ناپ روک لیا گیا۔ اب آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیجئے کہ ہم پیمانہ بھر کر لائیں ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں۔ |64| 12 (یعقوب علیہ السلام نے) کہا کہ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا، بس اللہ ہی بہترین حافظ ہے اور وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ |65| 12 جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو اپنا سرمایہ موجود پایا جو ان [1] القرطبی،ابو عبد اللّٰه ،محمد بن احمد بن ابی بكر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدين (المتوفى: 671هـ): الجامع لأحكام القرآن الشهيربتفسير القرطبی۔ [2] ڈاکٹر اسراراحمد:تفسیر بیان القرآن۔