کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 456
میں اس موضوع کی تمام روایات ذکر کی ہیں۔[1]
ان آخری تینوں آیات میں سے پہلی آیت میں توحید کا ذکر ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں مشرکین جو عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی اولاد ہے جیسا کہ بیان ہو چکاہے کہ مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی کمزوری اور عیب سے پاک ہے اور ان تمام قبیح باتوں سے منزّہ ہے، جو مشرکین اس کی شان میں کہتے ہیں۔
دوسری آیت میں رسالت کا ذکر ہے کہ رسولوں پر سلام ہو، جنھوں نے توحید کی راہ دکھلائی اور ہر قسم کے آلام و مصائب برداشت کرکے اللہ کی عظمت کا پرچم سر بلند رکھا۔ اس حوالے سے زیرِ تفسیر سورت میں انبیائے کرام علیہم السلام کی مساعیِ جمیلہ کا اور ان کو جھٹلانے والوں کے انجام کا بھی ذکر ہے جس میں اشارہ ہے کہ انبیا کی اتباع لازم ہے۔ وہی انسانوں اور ان کے پروردگار کے مابین واسطہ ہیں۔ اور انہی کی اتباع میں سلامتی ہے۔ ان کے نافرمانوں کا وہی انجام ہوگا جو پہلے سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ اس لیے دنیا و آخرت کی سعادتوں کے حصول کا وہی ذریعہ ہیں۔
تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اللہ کے شکر کا اظہار ہے جس نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی، اپنے انبیا ء کو عز و شرف سے نوازا اور ان کے دشمنوں کو نیست و نابود کیا۔ اس میں اللہ کی توحید بھی ہے کہ تمام صفات کاملہ کا وہی مالک ہے اور کائنات کو پیدا کرنے والا اور بتدریج پروان چڑھانے والا وہی ہے اس لیے وہی حقیقتاً حمد کے لائق ہے۔ یوں ان تینوں آیات میں ایمان باللہ، ایمان بالرسول اور ایمان بالقیامۃ کی طرف اشارہ ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں ایمان کی دولت سے بہرہ وَر فرمائے۔ اس پر استقامت اور اسی پر موت نصیب فرمائے اور انبیائے کرام علیہم السلام کی رفاقت عطا فرمائے۔ آمین
سبحانک اللہم وبحمدک أشھد أن لا إلہ إلا أنت أستغفرک و أتوب إلیک۔
[1] النکت علی ابن الصلاح: (۷۴۵۔ ۷۲۶).