کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 455
موقوفاً منقول ہیں۔ لیکن اس کا راوی اصبغ بن نباتہ متروک ہے۔[1] ٭ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جو نماز کے بعد تین بار یہ آیات پڑھے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا۔[2] علامہ ہیثمی صلي الله عليه وسلم نے کہا ہے کہ اس میں عبدالمنعم بن بشیر سخت ضعیف ہے۔[3] علامہ آلوسی نے فرمایا ہے کہ مجلس کے اختتام پر ان آیات کے پڑھنے کی بنسبت ابوداود میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت اصح ہے کہ جو مجلس کے اختتام پر یہ کلمات تین بار پڑھ لیتا ہے تو یہ اس مجلس میں گناہوں کا کفارہ ہو جاتے ہیں اور مجلسِ خیر کے لیے قبولیت کا باعث بنتے ہیں وہ کلمات یہ ہیں: (( سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ )) ’’تو پاک ہے اے اللہ اپنی تعریف کے ساتھ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔‘‘ آج کل لوگوں میں مشہور ہو گیا ہے کہ وہ مجلس کے اختتام پر یہ آیات پڑھتے ہیں۔[4] روح المعانی کے مطابق یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے مگر یہ غالباً طباعتی غلطی ہے کیوں کہ ’’سنن أبي داود‘‘ میں یہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے ہے۔[5] بلکہ یہی روایت ابو داود ہی میں اس کے بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی روایت مروی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مجلس کے اختتام، تلاوتِ قرآن کے اختتام اور نماز کے اختتام پر یہی دعا پڑھتے تھے۔[6] بعض روایات میں ’’سبحانک اللھم وبحمدک أشھد أن لا إلٰہ إلا أنت۔۔۔ الخ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ حافظ ابن حجر نے ’’النکت علی ابن الصلاح‘‘
[1] تقریب: (ص: ۳۸). [2] طبراني. [3] مجمع الزوائد: (۱۰/ ۱۰۳). [4] روح المعاني. [5] سنن أبي داود: (۴۸۵۷). [6] نسائي وغیرہ، الصحیحۃ: (۳۱۶۴).