کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 454
سے یہ روایت بحوالہ ابو یعلی، مجمع الزوائد میں منقول ہے،[1] مگر ’’ابو ہارون‘‘ کی جگہ ’’ابوہریرہ‘‘ ہے۔ غالباً اسی وجہ سے علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے کہہ دیا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ مگر یہ درست نہیں سند میں ’’ابو ہارون‘‘ ہے، ’’ابو ہریرہ‘‘ نہیں۔ بلکہ دیگر مراجع میں بھی ’’ابو ہارون‘‘ ہی ہے۔ اس لیے اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ جیسا کہ ابو یعلی کی تخریج میں ہم ذکر کر چکے ہیں۔[2]
ابوہارون کی اس روایت میں یہ اختلاف بھی ہے کہ بعض مراجع میں یہ آیات سلام سے پہلے پڑھنے کا بھی ذکر ہے اور بعض مراجع میں ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ سلام سے پہلے یا سلام کے بعد یہ پڑھتے تھے:
’’لا أدري قبل أن یسلم أو بعد أن یسلم‘‘
ابو ہارون اس میں منفرد ہے اور وہ سخت ضعیف ہے۔ مزید یہ کہ متن میں بھی اضطراب ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضعیف روایت ہے۔
٭ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز سے انصراف اِن آیات کے پڑھنے سے معلوم ہوتا تھا۔[3] مگر اس کا راوی محمد بن عبداللہ بن عمیر متروک ہے۔ [4]
یہ روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز سے انصراف تکبیر سے معلوم کرتا تھا۔[5]
٭ امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے کہ قیامت کے دن بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے اسے چاہیے کہ مجلس کے اختتام پر یہ تین آیات تلاوت کرے۔[6]
اس کے راوی ثقہ ہیں مگر یہ مرسل ہے۔ البتہ یہی الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے
[1] مجمع الزوائد: (۲/ ۱۴۸۔ ۱۴۷).
[2] مزید تفصیل کے لیے ’’السلسلۃ الضعیفۃ‘‘: (۴۲۱۱) اور ’’عجالۃ الراغب المتمنی‘‘: (۱/ ۱۷۲) ملاحظہ فرمائیں.
[3] طبراني.
[4] مجمع الزوائد: (۱۰/ ۱۰۳).
[5] صحیح البخاري: (۸۴۲).
[6] ابن أبي حاتم، ابن کثیر.