کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 453
اور کون سی نعمت ہے، جیسا کہ اس کی طرف اشارہ سورت آلِ عمران میں ہے۔[1] انہی کے توسط سے ہمیں دولت ایمان نصیب ہوئی۔ و الحمد للّٰہ رب العالمین۔ کتبِ تفاسیر میں ان تینوں آیات مبارکہ کے بعض فضائل بھی بیان ہوئے ہیں۔ اختصار سے وہ بھی ملاحظہ فرما لیجیے: ٭ امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مجھ پر سلام بھیجو تو دوسرے رسولوں پر بھی سلام بھیجو۔[2] مگر یہ روایت مرسل ہے۔ البتہ امام ابن ابی حاتم نے اسے مسنداً ’’قتادۃ حدثنا أنس بن مالک عن أبي طلحۃ‘‘ کی سند سے روایت کیا ہے۔ اس کے اور شواہد بھی ہیں جن کی بناپر علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔[3] ٭ مسند ابی یعلیٰ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز میں) سلام پھیرنے سے پہلے یہ تین آیات پڑھتے تھے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔[4] کیوں کہ اس کا راوی ابو ہارون عمارۃ بن جوین ’’متروک‘‘ ہے۔[5] امام احمد نے اسے ’’ لیس بشیٔ‘‘ امام نسائی نے ’’متروک الحدیث، لیس بثقۃ ولا یکتب حدیثہ‘‘ کہا ہے۔ علامہ ابن عبد البر نے کہا ہے: اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ حتی کہ ابن حبان نے کہا ہے کہ وہ ابو سعید رضی اللہ عنہ کے نام پر ایسی روایات بیان کرتا تھا جو ابو سعید کی مرویات میں سے نہ تھیں۔[6] یہ حدیث ’’مسند أبي یعلی‘‘ میں ’’أبو ہارون قلنا لأبي سعید‘‘ کے الفاظ سے ہے،[7] جس میں سلام کے بعد یہ آیات پڑھنے کا ذکر ہے۔ انہی الفاظ
[1] آل عمران: ۱۶۴. [2] ابن جریر، ابن أبي حاتم. [3] صحیح الجامع: (۳۷۸۲). [4] تفسیر ابن کثیر: (۴/ ۳۴). [5] تقریب: (ص: ۲۵۱). [6] تہذیب: (۷/ ۴۱۲۔ ۴۱۴). [7] مسند أبي یعلیٰ، رقم: (۱۱۱۳) بترقیمي.