کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 452
’’تو کہہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔‘‘
قومِ لوط کی بربادی پر بھی فرمایا گیا ہے:
﴿ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى ﴾ [النمل: ۵۹]
’’کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔‘‘
’’حمد‘‘ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفات مثبتہ کی طرف اشارہ ہے اور ’’سبحان‘‘ میں صفات منفیہ سے تنزیہ کی طرف اشارہ ہے۔ اور عموماً تسبیح کے ساتھ ہی حمد کا یا اللہ تعالیٰ کی کسی اور صفت مثبتہ کا ذکر ہوا ہے جیسے ’’سبحان اللّٰہ و بحمدہ، سبحان اللّٰہ و الحمد للّٰہ، سبحان ربي الأعلی‘‘ ہے اور حکم بھی یہی ہے:
﴿ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ ﴾ [الحجر: ۹۸، النصر: ۳]
’’پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔‘‘
مگر یہاں تسبیح اور حمد کے مابین فصل ہے یعنی ’’ وسلام علی المرسلین‘‘، سبحان کے ساتھ اگرچہ صفت ’’عزۃ‘‘ بیان ہوئی ہے مگر وہ موقع ومحل کی مناسبت سے ہے۔ ’’وسلام علی المرسلین‘‘ کے لیے بھی یہی کہا جائے گا کہ یہ بھی موقع و محل کی مناسبت ہی سے تحمید سے پہلے ہے۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کی آگاہی رسولوں ہی کی بدولت نصیب ہوئی ہے اس لیے اظہار توحید کے بعد ان کے لیے سلامتی کی دعا ہے۔
پھر ان کے ارسال پر اللہ تعالیٰ کا شکر وسپاس اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے جس نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اورانھیں نوع انسان کی ہدایت اور دنیا و آخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ بنایا۔ حمد اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر ہوتی ہے اور رسول سے بڑھ کر