کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 451
کہتے تھے اللہ کی اولاد ہے اس کی بیوی ہے، اس نے اپنے شریک بنا رکھے ہیں، اس کے معاون ومددگار ہیں۔ اور ان میں تقسیم کار ہے، معاذ اللہ۔ ﴿ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ ﴾ اور سلام ان پر جو بھیجے گئے۔ پہلے اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی تسبیح و تنزیہ ہے پھر ان نفسوس قدسیہ پر سلام ہے جنھوں نے اللہ کی تسبیح و تقدیس میں زندگیاں کھپا دیں اور انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی عظمت سے روشناس کیا۔ اس میں اشارہ ہے کہ سلامتی انھی کے لیے ہے اور ان کے مخالفین کے لیے تباہی ہے۔ سورت میں پہلے انبیائے کرام کا ذکر ہوا ہے اور ان پر فرداً فرداً سلامتی کا ذکر ہے یہاں یہی سلامتی کا پیغام تمام انبیا کے لیے ہے۔ ﴿ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾ انبیا و رسل علیہم السلام کی کامیابی اور اُن کے غلبے کے ساتھ ساتھ کفار و مشرکین کی تباہی اور ذلت و رسوائی کا بھی پہلے ذکر ہو اہے اب آخر میں فرمایا کہ وہی رب العالمین حمدو ثنا اورشکر و سپاس کے لائق ہے جس نے ہمیشہ حق کا بول بالا کیا اور باطل کو شکست دی۔ جیسے ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے: ﴿ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴾[الأنعام: ۴۵] ’’تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔‘‘ (جس نے زمین سے ظالموں کاوجود ختم کر دیا) ظالموں کے رسوا ہونے اور سزا ملنے پر اللہ کا شکر اور اس کی حمد و ثنا بیان کرنی چاہیے کہ خس کم جہاں پاک۔ اللہ تعالیٰ کا ان سے یہی وعدہ تھا۔ اور مقام ِشکر ہے کہ یہ وعدہ پورا ہوا، ایسے موقع پر حکم بھی یہی ہے: ﴿ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانَا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴾ [المؤمنون: ۲۸]