کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 450
اسی طرح فرمایا: ﴿ مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ﴾ [فاطر: ۱۰] ’’جو شخص عزت چاہتا ہو سو عزت سب اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ اُسی عزت کے مالک نے اپنے انبیا کو عزت بخشی اور دشمنوں کے مقابلے میں انھیں کامیاب کیا اور ان کے دشمنوں کو نامراد اور ذلیل ورسوا کیا۔ انبیائے کرام اور اہلِ ایمان کو جو عزت حاصل ہے، وہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے اور فسّاق و فجّار کو جو بسااوقات عزت حاصل ہوتی ہے، وہ عارضی اور وقتی ہوتی ہے۔ اور وہ بتکلف اپنے آپ کو باعزت اور غالب ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور ان کے لیے عزت کا لفظ تکبر، غرور اور حمیت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا: ﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ﴾ [البقرۃ: ۲۰۶] ’’اور جب اس سے کہا جاتا ہے: اللہ سے ڈر تو اس کی عزت (غرور، تکبر) اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اسے جہنم ہی کافی ہے اور یقینا وہ برا ٹھکانا ہے۔‘‘ اسی طرح ایک اور مقام پر ہے: ﴿ بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ ﴾ [صٓ: ۲] ’’بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکبر اور مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں۔‘‘ یہاں عزت کا لفظ کفار و فجار کے تکبر، غرور اور حمیت کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ﴿ عَمَّا يَصِفُونَ ﴾ جو وہ بیان کرتے ہیں یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ان صفات سے متصف نہیں، جن کا اکثر لوگ اعتقاد رکھتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی تشبیہ و تمثیل اور اُن باتوں سے جو کفار اس کی طرف منسوب کرتے ہیں بہت بلند و بالا ہے۔ مثلاً وہ