کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 449
عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴾ [آل عمران: ۲۶] ’’کہہ دے اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بے شک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔‘‘ خلیفہ ہارون کو ایک اللہ والے نے امر بالمعروف کی تلقین کی تو اسے یہ ناگوار گزری۔ خلیفہ ہارون کا ایک سرکش گھوڑا تھا، ہارون نے حکم دیا کہ اس کو اس گھوڑے کے ساتھ باندھ دیا جائے، گھوڑا اس کا کام تمام کر دے گا۔ چنانچہ مصاحبوں نے اس کو گھوڑے کے ساتھ باندھ دیا مگر گھوڑے نے اسے کوئی نقصان نہ پہنچایا۔ ہارون نے یہ دیکھ کر حکم دیا کہ اسے ایک مکان میں بند کر دیا جائے اور مکان کا دروازہ مٹی سے لیپ پوت دیاجائے۔ چنانچہ اسی طرح کیا گیا۔ مگر لوگوں نے دیکھا کہ وہ تو باہر باغ میں چل پھر رہا ہے۔ پوچھا گیا تمھیں یہاں باغ میں کون لے آیا ہے اس نے کہا جس نے مجھے مکان سے نکالا ہے۔ ہارون نادم ہوا اور حکم دیا کہ اسے گھوڑے پر سوار کرکے بازاروں میں لے جاؤ اور منادی کیے جاؤ کہ ہارون اس کو ذلیل کرنا چاہتا تھا، مگر اللہ نے اسے عزت دی ہے۔[1] حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے انھیں وہاں سے نکال کر تخت شاہی پر بٹھا دیا۔ اس لیے ہر بات پر قادر و غالب اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہے۔ اور وہی عزت کا مالک ہے۔ کافروں کو اپنا دوست بنانے والوں سے فرمایا گیاہے کہ کیا تم یوں ان سے عزت کے اُمیدوار ہو!جب کہ عزت کا مالک تو اللہ ہے۔ [النساء: ۱۳۹]
[1] شرح الاسماء الحسنیٰ للرازي: (ص: ۱۹۷).