کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 448
ہارون علیہما السلام سے متعلق ربوبیت سے ربوبیت خاصہ مراد ہے۔
﴿ رَبِّ الْعِزَّةِ ﴾ عزت کا رب۔ یعنی صاحب عزت، عزت کا مالک۔ صاحب عزت وہ ہے جو غالب ہو مغلوب نہ ہو، جو ہر چیز پر قادر ہو مجبور نہ ہو اور جو قوی ہو کمزور نہ ہو۔ اور کوئی اسے نقصان پہنچانے والانہ ہو۔ قرآنِ مجید میں ’’ رب‘‘ کے معنی خالق، مالک، مدبر آئے ہیں۔ مگر یہاں رب بمعنی خالق یا مدبر قطعاً نہیں کیوں کہ عزت اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اللہ کی صفات مخلوق نہیں ہیں اس کی ذات سے مختص ہیں۔ یہاں ’’رب‘‘ کی اضافت عزت کی طرف اس لیے ہے کہ یہاں پہلے انبیائے کرام کے غلبے اور کفار کے عذاب کا ذکر ہے، دونوں کو اس انجام اور نتیجے سے دو چار کرنے والا وہی ہو سکتا ہے، جو صاحبِ عزت ہو۔ جسے چاہے عزت و نصرت سے سرفراز فرمائے اور جسے چاہے ذلت و رسوائی میں مبتلا کر دے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی نے کہا تھا کہ ہم شہرِ مدینہ سے ذلیلوں کو نکال دیں گے۔ جس کے جواب میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ ﴾ [المنافقون: ۸]
’’حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
﴿ قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ