کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 447
﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ (180) وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (181) وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (182) ﴾ [الصّٰفّٰت: ۱۸۲۔ ۱۸۰]
’’پاک ہے تیرا رب، عزت کا رب، ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ اور سلام ان پر جو بھیجے گئے۔ اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘
ان آخری تین آیات میں مکمل سورت بلکہ تمام اُصول دین کا خلاصہ بیان ہوا ہے اور بڑی خوب صورتی سے اس کے تمام مضامین کو سمیٹ دیا گیا ہے۔
﴿ سُبْحَانَ رَبِّكَ ﴾ سبحان کلمہ تنزیہ ہے۔ اور غفران کی طرح مصدر ہے۔ یہ کلمہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تسبیح و تقدیس کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہر عیب، ہر کمی، ہر نقص اور ہر کمزوری سے پاک ہے۔ اس کی بادشاہت میں کوئی اس کا شریک نہیں اس کی کوئی اولاد نہیں، اس کی کوئی بیوی نہیں، اس جیسا کوئی نہیں، وہ اپنی ذات اور صفات میں یکتا ہے۔
﴿ رَبِّكَ ﴾ تیرا رب۔ یہ ربوبیتِ عامہ نہیں جو تمام مخلوقات کو شامل ہے، بلکہ یہاں ربوبیتِ خاصہ مراد ہے کہ وہ تیرارب ہے جس نے تمھیں نبی بنایا۔ اپنا کلام تم پر نازل کیا، سیدِ ولدِ آدم اور امام الانبیا کا اعزاز بخشا اور تمھارا ذکر بلند کیا۔ قرآنِ مجید میں رب کی اسی تقسیم کی طرف یوں اشارہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جادوگروں نے بالآخر کہا تھا:
﴿ قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ (121) رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ ﴾[الشعراء: ۴۸۔ ۴۷]
’’اُنھوں نے کہا: ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔‘‘
یہاں پہلے تمام جہانوں کے رب میں ربوبیت عامہ مراد ہے پھر موسیٰ اور