کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 446
تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿وَقُلْ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (121) وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ ﴾ [ہود: ۱۲۲۔ ۱۲۱]
’’اور ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے، کہہ دے تم اپنی جگہ عمل کرو، یقینا ہم (بھی) عمل کرنے والے ہیں۔ اور انتظار کرو یقینا ہم (بھی) انتظار کرنے والے ہیں۔‘‘
اس کے علاوہ سورۃ الانعام کی آیت (۱۵۸) پر بھی ایک نگاہ ڈال لیجیے۔
یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ پہلی آیت میں ﴿أَبْصِرْهُمْ ﴾ تھا جس میں کفار مکہ کی طرف اشارہ تھا اور یہاں ’’ابصر‘‘ ہے، ’’ھم‘‘ ضمیر کو حذف کر دیا گیا ہے، جس میں اشارہ ہے کہ کفارِ مکہ ہی نہیں تمام منکرین کا حال دیکھتے جاؤ، عن قریب وہ اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ چنانچہ مدینہ طیبہ کے یہود اور منافقین بلکہ مضافات میں بسنے والے نصاریٰ اور مجوسی بھی اپنے انجام سے دو چار ہوئے اور اللہ کا وعدہ سچا ثابت ہوا۔