کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 445
سے پہلے اور بعد وہ آیات ہیں جن کے آخر میں الف آتا ہے۔ حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کے اسی واقعے میں فواصل کی مناسبت سے ہی فرمایا گیا ہے: ﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ (121) رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ ﴾ [الشعراء: ۴۸۔ ۴۷] ’’اُنھوں نے کہا: ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔‘‘ یہاں پہلی اور بعد کی آیات کے اختتام میں ’’ن‘‘ ہے، اس لحاظ سے یہاں ہارون علیہ السلام کا نام بعد میں آیا ہے۔ اور ضمیر ظاہر اس لیے بھی کہ انھیں ڈرایا گیا تھا ان پر اتمام حجت کر دیا گیا اسی مناسبت سے ﴿صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ﴾ فرمایاگیا ہے۔ ﴿وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّى حِينٍ ﴾ دو آیات بعد دوبارہ ان آیات میں کفار کے لیے وعید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی و تشفی کا اعادہ ہے۔ اور اس سے مقصد مشرکین کی تہدید میں مبالغہ ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے پہلی دو آیات میں یہی بات غلبہ و نصرت کے تناظر میں ہے۔ بعد کی آیات کفار کے عذاب سے متعلق ہیں۔ گویا یہ تکرار صرف لفظی ہے معنوی نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلی آیات میں احوالِ دنیا اور ان میں احوالِ قیامت کی طرف اشارہ ہو۔ یہاں یہ بات بھی پیش نگاہ رہے کہ بعض حضرات نے ’’وَاَبْصِرْ‘‘ کے معنی ’’وانتظر‘‘ کیے ہیں کہ انتظار کرو۔ اسی معنی میں ایک مقام پر فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿فَهَلْ يَنْتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِينَ ﴾ [یونس: ۱۰۲] ’’تو یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے ان لوگوں کے سے ایام کے جو ان سے پہلے گزر چکے۔ کہہ دے پس انتظار کرو، یقینا میں (بھی)