کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 444
دوڑنے والے ہیں! پھر جو سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے ہیں! پھر جو صبح کے وقت حملہ کرنے والے ہیں!‘‘
یہاں بھی صبح کے وقت حملہ آور ہونے کا ذکر ہے۔ غزوہ خیبر کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، یہودی حسبِ معمول صبح کے وقت روزمرہ کے کاموں کے لیے باغات اور کھیتوں کی طرف روانہ ہوئے تو سامنے سے لشکر اسلام کو آتا دیکھ کر ان کی چیخیں نکل گئیں۔ وہ بولے یہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کا لشکر ہے، وہ بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزیں ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے ہوئے بلند آواز سے فرمایا:
(( اللّٰہ أکبر، خربت خیبر، إنا إذا نزلنا بساحۃ قوم فساء صباح المنذرین )) [1]
’’اللہ سب سے بڑا ہے، خیبر اُجڑ گیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اُترتے ہیں تو جن کو ڈرادیا جاتا ہے ان کی صبح بڑی بُری اور خوف ناک ہوتی ہے۔‘‘
یہاں یہ نہیں فرمایا گیا: ’’فساء صباحہم‘‘ بلکہ ضمیر کی جگہ مفعول ظاہر ’’المنذرین‘‘ ذکر ہوا ہے۔ اور یہ آیات میں فواصل کی رعایت کے لیے ہے۔ اس کی ایک اور مثال دیکھیے کہ ایک جگہ فرمایا گیا ہے:
﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَى ﴾ [طہ: ۷۰]
’’انھوں نے کہا ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔‘‘
یہاں موسیٰ علیہ السلام کی افضیلت کے باوجود ہارون علیہ السلام کو پہلے اور موسیٰ علیہ السلام کو بعد میں ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی آیات کے مابین فواصل کی مناسبت سے ہے کہ اس آیت
[1] صحیح البخاري: (۴۱۹۷)، صحیح مسلم: (۱۳۴۵).