کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 443
اُنھوں نے ہدایت طلب نہیں کی عذاب طلب کیا۔ ﴿فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ ﴾ جب وہ (عذاب) ان کے صحن میں اترے گا۔ ’’الساحۃ‘‘ کے معنی فراخ جگہ کے ہیں۔ مکان کے صحن کو ’’ساحۃ الدار‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی سے سفر کرنے والے کو سائح یا سیاح کہا جاتا ہے۔ آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ جب عذاب ان کے صحن اور ان کے میدان میں ان کے روبرو نازل ہوگا تو وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ ﴿فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ﴾ تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بُری ہوگی۔ سَائَ یَسُوْئُ کے معنی ہیں کسی چیز کا براہونا، قبیح ہونا۔ صباح، صبح، دن کا ابتدائی حصہ۔ اہلِ عرب دن کے اول وقت میں حملہ آورہوتے تھے اس لیے غارت گری اور حملہ کے مفہوم کے لیے بھی ’’صباح‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اوراسی لیے دشمن کے حملے سے خبردار کرنے والا ’’یا صباحاہ‘‘ کہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب عموماً صبح کے وقت آتا تھا جیسے قوم لوط کے متعلق فرمایا: ﴿إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ ﴾ [ھود: ۸۱] ’’بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں؟‘‘ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی معمول یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت کسی بستی پر حملہ نہ کرتے بلکہ صبح صادق کا انتظار فرماتے اگر وہاں سے صبح کی اذان سنتے تو حملے کا ارادہ ترک فرما دیتے اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو حملہ کرنے کا حکم دیتے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے جہادی گھوڑوں کے بارے میں فرمایا: ﴿وَالْعَادِيَاتِ ضَبْحًا (1) فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا (2) فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا ﴾ [العادیات: ۳۔ ۱] ’’قسم ہے ان (گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے