کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 442
’’کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو۔‘‘
یہ سورت بھی مکی ہے، یہاں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے خلاف کسی قسم کے اقدام سے منع فرمایا گیا ہے۔ اور ﴿حَتَّى حِينٍ ﴾ ’’ایک وقت مقررہ تک‘‘ سے مراد جہاد کے حکم کا وقت ہے۔ جس کی اجازت مدینہ میں دی گئی۔ اور جس کی طرف اشارہ سورۃ النساء کی آیت (۷۷) ہی میں موجود ہے۔
﴿وَأَبْصِرْهُمْ ﴾ اور انھیں دیکھ، وہ بھی عن قریب دیکھ لیں گے۔ اس میں کفار کے لیے تہدید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ جو کچھ یہ کر رہے ہیں، آپ اسے دیکھتے جایے، اپنی حرکاتِ بد کا انجام یہ بھی عن قریب دیکھ لیں گے۔ اس روز جو ہمارا آپ سے غلبے کا وعدہ ہے، وہ دیکھ کر آپ بھی خوش ہوں گے اور ان سے ذلت و رسوائی کا جووعدہ ہے اس سے وہ بچ نہیں سکیں گے چنانچہ بدر اور فتح مکہ پر اُنھوں نے اپنا انجام دیکھ لیا۔
﴿أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ ﴾ تو کیا وہ ہمارا عذاب جلدی مانگتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کے نتیجے میں جب مشرکین کو عذاب سے ڈرایا جاتا تو وہ مذاق سے کہتے یہ عذاب آتا کیوں نہیں؟ قیامت کے بارے میں بھی جب انھیں خبردار کیا جاتا تب بھی وہ کہتے:
﴿مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ﴾ [النمل: ۷۱]
’’کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔‘‘
ان کے اسی مطالبے پر انھیں خبر دار کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اس معاملے میں ان کی ضد یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ اُنھوں نے کہا اے اللہ ! اگر یہ تمھاری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔ [الأنفال: ۳۲]