کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 441
﴿إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ ﴾ [الأنفال: ۷۳]
’’اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور بہت بڑا فسادہوگا۔‘‘
اگر تمھارے ان سے دوستانے ہوئے تو مسلمانوں کے راز اِفشا ہوتے رہیں گے اور آئے دن لڑائی ہوتی رہے گی۔ آج کے مسلمان اس جرم کی پاداش میں اسی آیت کی تصویر بنے ہوئے ہیں، مسلمان جب تلک باہم اخوت و مودت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری میں ’’جند اللہ‘‘ کا کردار ادا نہیں کریں گے، کامیابیوں سے ہم کنار نہیں ہوں گے۔ ان کو غلبہ، سیاسی ہو یا اُخروی، تبھی حاصل ہوگا، جب وہ خواہشاتِ نفس، شیطان اور اس کے چیلوں سے جنگ کرنے میں باہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے:
﴿وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ﴾ [آل عمران: ۱۳۹]
’’اور تم ہی غالب ہو اگر تم مومن ہو۔‘‘
آزمایش کے طور پرپریشانی تو آسکتی ہے، وہ کبھی شکست سے دوچار ہو سکتے ہیں مگر انجام کار اور میدان انھی کے ہاتھ آئے گا اور وہ سرخ رُو ہوں گے۔
﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ﴾ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اور صبر و استقلال سے اپنے مشن پر قائم رہنے کی تلقین کی گئی ہے اور مشرکین کی نت نئی زیادتیوں پر ایک وقت تک اعراض کرنے اور کوئی قدم نہ اُٹھانے کا حکم ہے۔ مکہ مکرمہ میں مشرکین کی ایذا رسانیوں سے تنگ آکر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کفار سے جہاد کی اجازت طلب کی کہ جب ہم مشرک تھے تو باعزت تھے اب ہم مسلمان ہو کر ذلیل ہو رہے ہیں تو انھیں جہاد سے روک دیا گیا۔ اسی حوالے سے فرمایا گیا ہے:
﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ﴾ [النساء: ۷۷]