کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 440
حزب اللہ کی سربلندی اور کامیابی مراد ہے اور یہ سرفرازی ہمیشہ انھیں حاصل ہوئی ہے۔ اور ظاہری غلبہ اللہ تعالیٰ کی حکمتِ آزمایش کی بنا پر آخرت تک موخر کر دیا گیا۔
3 بعض نے کہا ہے کہ کفار پر یہ غلبہ آخرت میں مراد ہے۔ کیوں کہ اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ یہی وجہ ہے شہید ہونے والا بھی پکار اُٹھتا ہے: ’’فزت ورب الکعبۃ‘‘ (رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا)۔
قیامت کے روز تو اہلِ ایمان کی برتری بالکل نمایاں ہوگی، جیسا کہ فرمایا ہے:
﴿فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ (34) عَلَى الْأَرَائِكِ يَنْظُرُونَ (35) هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) ﴾[المطففین: ۳۶۔ ۳۴]
’’سوآج وہ لوگ جو ایمان لائے کافروں پر ہنس رہے ہیں۔ تختوں پر بیٹھے نظارہ کر رہے ہیں۔ کیا کافروں کو اس کا بدلا دیا گیا جو وہ کیا کرتے تھے؟‘‘
لیکن یہ تاویل محلِ نظر ہے، کیوں کہ اوپر سورۃ المؤمن کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام اور اہلِ ایمان سے یہ وعدہ دنیوی زندگی میں بھی ہے۔
یہاں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ ایمان والوں کا غلبہ تبھی ہے جب وہ ’’حزب اللہ‘‘ اور ’’جند اللہ‘‘ کا کردار ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہلِ ایمان ہی کو اپنا دوست اور ہم راز سمجھیں۔ جیسا کہ قرآنِ مجید کی بعض آیات سے مترشح ہوتا ہے۔[1] بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کو باہم ایک دوسرے کا دوست قرار دیا ہے جب کہ ان کے مقابلے میں ملتِ کفر کو ایک دوسرے کا دوست بتلایا ہے کہ کافر، کافر ہی کا دوست ہے مسلمان کا نہیں، اس لیے ان سے دوستی اور موالات کا رشتہ استوار نہیں ہو سکتا۔ پھر فرمایا ہے:
[1] المائدۃ: ۵۶، المجادلۃ: ۲۲.