کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 439
اللہ کے رسول ان پر غالب آئیں گے۔ قتال و جہاد کا نتیجہ غلبہ ہے یا شہادت ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿ وَمَنْ يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا ﴾ [النساء: ۷۴]
’’اور جو شخص اللہ کے راستے میں لڑے پھر قتل کر دیا جائے یا غالب آجائے تو ہم جلد ہی اسے بہت بڑا اَجر دیں گے۔‘‘
اجر تو بلاشبہہ دونوں حالتوں میں ملے گا مگر مقتول یا شہید غالب نہیں۔ غالب وہ ہے جو فاتح ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جنگ وجہاد میں رسول شہید نہیں ہوگا، بلکہ غالب ہوگا، انجام کار انہی کے ہاتھ رہے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ بہر نوع پورا ہوگا۔ علامہ محمد شنقیطی صلي الله عليه وسلم نے اسی موقف کو راجح قرار دیا ہے۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفار مکہ کی متعدد بار مڈ بھیڑ ہوئی۔ بعض اوقات بظاہر میدان کفار کے ہاتھ آیا لیکن بالآخر کامیابی و کامرانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوئی۔ ہرقل نے بھی اسی حقیقت کا اظہار ابوسفیان سے کیا تھا: تم نے بتایا کہ تمھاری اور ان کی لڑائیوں کی صورت میں کبھی وہ غالب رہے اور کبھی تم ان پر غالب آئے:
’’کذلک الرسل تبتلی، وتکون لہ العاقبۃ‘‘[2]
’’رسولوں کو اسی طرح آزمایا گیا تاہم آخری نتیجہ انہی کے حق میں ہوگا۔‘‘
یہ تو انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں ہے، رہے مومن و مسلمان تو وہ بطور آزمایش کبھی شکست سے دو چار ہو سکتے ہیں۔ اگر ہمیشہ وہی غالب رہیں تو ابتلا کا معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔
2 غلبہ سے مراد سیاسی غلبہ نہیں، بلکہ دلیل و حجت کے اعتبار سے انبیائے کرام علیہم السلام اور
[1] اضواء البیان: (۱/ ۲۲۸۔ ۲۲۷).
[2] صحیح البخاري: (۲۹۴۱، ۴۵۵۳).