کتاب: تفسير سورۂ الصافات - صفحہ 361
گیا تو تینوں بار قرعہ یونس علیہ السلام کے نام نکلا تو انھیں دریا میں ڈال دیا گیا۔[1] ﴿ فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ ﴾ ’’التقم‘‘ باب افتعال سے واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں نگلنا، لقمہ بنانا، ہڑپ کرجانا۔’’الحوت‘‘ عموماً بڑی مچھلی کو کہتے ہیں البتہ اس کا اطلاق ہر قسم کی مچھلی پر بھی ہوتا ہے۔ ’’حوت‘‘ کی جمع ’’حیتان‘‘ اور ’’احوات‘‘ ہے۔ قرآن مجید میں یہودیوں کی سرکشی کے حوالے سے بیان ہوا ہے: ﴿ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا ﴾ [الأعراف: ۱۶۳] ’’جب ان کی مچھلیاں ان کے ہفتے کے دن سر اُٹھائے ہوئے ان کے پاس آتیں۔‘‘ مچھلیوں کے مختلف نام ہیں مثلاً السمک، العنبر، القرش وغیرہ علامہ غزالی نے کہا ہے کہ مخلوقات میں سے سب سے زیادہ مخلوق یہی مچھلی ہے۔[2] مگر علی الاطلاق یہ رائے درست نہیں البتہ آبی اور دریائی مخلوقات میں بلاشبہہ سب سے زیادہ مچھلی ہے۔ اور کل مخلوقات میں سب سے زیادہ تعداد فرشتوں کی ہے۔ یونس علیہ السلام کی مچھلی کو ’’نون‘‘ بھی کہا گیا ہے اور اس کے پیٹ میں جانے کی وجہ سے انھیں ’’ذا النون‘‘ (مچھلی والا) کہا گیا ہے: ﴿ وَذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ ﴾ [الأنبیاء: ۸۷] ’’اور مچھلی والے کو، جب وہ غصے سے بھرا ہوا چلا گیا، پس اس نے سمجھا کہ ہم اس پر گرفت تنگ نہ کریں گے۔‘‘[3]
[1] فتح الباري: (۶/ ۴۵۲)، الدر المنثور: (۵/ ۲۸۸). [2] حیاۃ الحیوان: (۳/ ۲۹). [3] ’’لن نقدر علیہ‘‘ کے معنی یہ کرنا کہ ’’ہم اس پر قابو نہیں پا سکیں گے جیسا کہ بعض عیسائی معترضین کرتے ہیں، قطعاً درست نہیں۔ بلکہ اس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ میرے اس اقدام پر کوئی خفگی اور عذاب نازل نہیں کریں گے۔ جیسا کہ امام بیہقی نے یہ تعبیر حضرت ابن عباس عنہما وغیرہ سے ’’الأسماء و الصفات‘‘: (۲/ ۲۷۷) پمیں نقل کی ہے۔ کیوں کہ ’’قدر، یقدر‘‘ کا صلہ جب ’’علی‘‘ ہو تو اس کے معنی تنگ کرنے کے بھی آتے ہیں۔ جیسے قرآن مجید ہی میں ہے: ﴿وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ ﴾ [الفجر: ۱۶] ’’اور لیکن جب وہ اسے آزمائے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کر دے۔‘‘ اور یہی مفہوم تمام مفسرین نے بھی لیا ہے۔ ملاحظہ ہو: تفسیر ابن کثیر: (۳/ ۲۵۸).