کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 322
﴿وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ ﴾ اس تاخیر سے مراد موت بھی ہے اور قیامت بھی اور ہر امت کی ’’اجل مسمی‘‘ بھی مراد ہے، جیسے فرمایا: ﴿لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ اِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ ﴾ [1] ’’ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، جب ان کا وقت آپہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔‘‘ مشرکین کی یہ اجل یوم بدر تھی۔ [2] جس میں ان کے ستر سردار قتل ہوئے اور ستر قیدی بنے، یوں اس ’’یوم فرقان‘‘ میں کفر کی کمر ٹوٹ گئی اور ان کا غرور خاک میں مل گیا۔ ﴿فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا ﴾ یہ جو انھیں مہلت دی جارہی ہے تو یہ اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی کرتوتوں کا علم نہیں بلکہ اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ سب اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہیں کہ کون کیا کررہا ہے: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰہَ غَافِلًا عَمًّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنَّمَا یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ﴾[3] ’’اور تُو اللہ کو ہرگز اس سے غافل گمان نہ کر جو ظالم لوگ کررہے ہیں، وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔‘‘ اس لیے جب وقت آئے گا تو ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اس میں مومنوں کے لیے تسلی بھی ہے اور منکرین کے لیے تخویف بھی کہ ایماندار کو اس کے ایمان وعمل کی جزا ملے گی اور منکر کو اس کے کفر وفسق کی سزا ملے گی ہے۔
[1] یونس : 49. [2] الرازی. [3] ابراہیم : 42.