کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 321
میں امام رازی وغیرہ نے فرمایا ہے کہ جانوروں کو اور دیگر اشیاء کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے نفع اور فائدے کے لیے بنایا ہے۔ جب شرک وکفر کا وبال تمام انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے تو جانوروں کو باقی رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ رہے وہ انسان جو اس جرم میں شریک تو نہیں ہوتے مگر امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی کرتے ہیں تو وہ بھی اپنے اس جرم کی پاداش میں عذاب میں مبتلا ہوجاتے ہیں جیسے ہفتہ کے روز کی حرمت کو پامال کرنے والوں کے ساتھ وہ بھی شریک عذاب ہوئے تھے جنھوں نے اس نافرمانی سے روکا نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَ اتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّۃً﴾ [1]
’’اور اس فتنے سے بچ جاؤ جو لازماً ان لوگوں کو خاص طور پر نہیں پہنچے گا جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا۔‘‘
ایسے ہی موقع پر نافرمانوں کے ساتھ نیک بھی دھر لیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(إِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ عَذَاباً أَصَابَ الْعَذَابَ مَنْ کَانَ فِیْہِمْ، ثُمَّ بُعِثُوْا عَلَی أَعْمَالِہِمْ ) [2]
’’جب اللہ کسی قوم کے بارے میں عذاب کا ارادہ کرتے ہیں تو سب کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں، پھر انھیں قیامت کے روز ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔‘‘ اور اعمال کے مطابق انھیں جزا وسزا دی جائے گی۔
[1] الأنفال : 25.
[2] مسلم : 2879.