کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 320
اسی طرح آخر زمانہ میں جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اور ہر سو عدل وانصاف کا بول بالا ہوگا اور کفر وشرک کا خاتمہ ہوجائے گا تو ایک انار کو ایک جماعت کھائے گی، اس کے چھلکے سے لوگ سایہ حاصل کریں گے اور ایک بکری کا دودھ ایک جماعت کے لیے کافی ہوگا۔ [1]
اس لیے فسق وفجور بے برکتی اور عذاب کا باعث ہے جبکہ ایمان اور عمل صالح برکت ورحمت کا سبب ہے۔ اور فسق وفجور کا اثر زمین وآسمان حتی کہ درختوں اور حیوانوں پر بھی ہوتا ہے۔ بعض سلف سے منقول ہے:
’إِنِّيْ لَأَعْصِی اللّٰہَ، فَأَعْرِفُ ذَلِکَ فِيْ خَلْقِ امْرَأَتِيْ وَدَابَّتِيْ‘[2]
’’میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہوں تو اسے اپنی بیوی اور اپنی سواری کے طور اطوار سے پہچان لیتا ہوں۔‘‘ (وہ بھی میری نافرمانی پر اتر آتے ہیں۔)
امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’إِنَّ الْبَہَائِمَ تُلْعِنُ عُصَاۃَ بَنِيْ آدَمَ إِذَا اشُتَدَّتِ السَّنَۃُ وَأُمْسِکَ الْمَطَرُ وََتَقُوْلُ: ہَذَا بِشُؤْمِ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ ‘[3]
’’جانور اولادِ آدم کے نافرمانوں پر لعنت کرتے ہیں۔ جب قحط سالی ہوتی ہے اور بارش نہیں برستی، وہ کہتے ہیں: یہ نحوست اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ہے۔‘‘
انسان کی بدبختی کا یہ اثر خشک سالی کی صورت میں ہو، زلزلہ یا سیلاب کی صورت میں ہو، اس سے جانور بھی متأثر ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں اور گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ مکذبین پر عذاب تو ان کے جرائم کی پاداش میں ہے مگر باقی انسانوں اور حیوانوں کو عذاب میں دھر لینا چہ معنی دارد؟ اس کے بارے
[1] ابن کثیر : 3/577.
[2] الدواء : 73 ،129.
[3] الداء : 81.