کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 319
’’اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔‘‘ اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’تاکہ انھیں ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائیں‘‘ حافظ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وَلَوْ أَذَاقَنَا کُلَّ أَعْمَالِنَا لَمَا ظَہَرَہَا مِنْ دَابَّۃٍ [1] ’’اگر وہ(اللہ)ہمارے تمام اعمال کا مزا چکھائے تو زمین پر کوئی جاندار نہ رہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَنْ کَثِیْرٍ ﴾ [2] ’’اور جو بھی تمھیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے درگزر کرجاتا ہے۔‘‘ لہٰذا جو بھی مصیبت آتی ہے اور جس بھی پریشانی سے انسان دوچار ہوتا ہے وہ اس کے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ بہت سے گناہوں سے اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے نظرِ عفو فرماتے ہیں۔ اگر تمام گناہوں پر مواخذہ کریں تو انسان کیا کوئی جاندار بھی زمین پر باقی نہ رہے۔ زمین پر معاصی کا نتیجہ ہے کہ پھلوں اور دانوں میں نقص واقع ہوا ہے۔ حافظ ابن کثیر وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ مسند امام احمد میں ہے کہ ’’زیاد‘‘ کے دور میں ایک تھیلی ملی جس میں گندم کا ایک دانہ کھجور کی گٹھلی کے برابر تھا اور اس پر لکھا ہوا تھا: ہَذَا نَبْتٌ فِيْ زَمَانٍ کَانَ یُعْمَلُ فِیْہِ بِالْعَدْلِ ’’یہ اس زمانے میں پیدا ہوا جب عدل پروری تھی۔‘‘
[1] الداء والدواء : 92. [2] الشوریٰ : 30.