کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 318
یُؤَاخِذُ اللّٰہُ… الآية﴾ تلاوت فرمائی۔‘‘
قرآنِ مجید میں فرعون اور اس کے حواریوں کی بربادی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
﴿فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنظَرِیْنَ ﴾ [1]
’’پھر نہ ان پر آسمان وزمین روئے اور نہ وہ مہلت پانے والے ہوئے۔‘‘
صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جب نیک آدمی فوت ہوجائے تو جس زمین کے حصے پر وہ نماز پڑھتا رہا وہ حصہ اس کے فراق میں روتا ہے۔ اور آسمان کے جس دروازے سے اس کے نیک اعمال اوپر اٹھائے جاتے ہیں وہ دروازہ بھی روتا ہے اور چالیس دن تک روتا رہتا ہے۔ آلِ فرعون کا کوئی عمل صالح نہیں تھا، اس لیے نہ ان پر زمین کا کوئی ٹکڑا رویا، نہ ہی آسمان رویا۔ یہ ان کے فسق وفجور کی بنا پر ہی فرمایا گیا ہے:
﴿ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴾ [2]
’’خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا ہے اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا تاکہ وہ انہیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا، تاکہ وہ باز آجائیں۔‘‘
یعنی نافرمانیوں کے نتیجے میں عذاب کا ’’کچھ حصہ‘‘ چکھائیں گے، اسی کو دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے:
﴿وَ لَنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ﴾ [3]
[1] الدخان : 29.
[2] الروم : 41.
[3] السجدۃ : 21.