کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 317
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ علیہ وسلم مَ مُرَّ عَلَیْہِ بِجَنَازَۃٍ فَقَالَ: (مُسْتَرِیْحٌ أَوْ مُسْتَرَاحٌ مِنْہٗ) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا الْمُسْتَرِیْحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْہٗ؟ قَالَ: (اَلْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ یَسْتَرِیْحُ مِنْ نَصِّبِ الدُّنْیَا وَأَذَاہَا إِلَی رَحْمَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ یَسْتَرِیْحُ مِنْہٗ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ ‘[1]
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا، آپ نے فرمایا: ’’آرام پانے والا ہے یا آرام دینے والا ہے‘‘، صحابۂ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آرام پانے والا یا آرام دینے والا، اس کے کیا معنی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایماندار بندہ تو مر کر دنیا کی تکالیف سے اور مصیبتوں سے نجات پا کر اللہ کی رحمت میں آرام پاتا ہے۔ اور بدکار بندے کے مرنے سے دوسرے بندے،ملک، درخت اور چوپائے جانور آرام پاتے ہیں۔‘‘
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر اور فاسق وفاجر کے فسق وفجور کا اثر شہروں، جانوروں اور درختوں پر بھی ہوتا ہے۔ حجر اَسود جو دودھ سے زیادہ سفید تھا، اس کا بھی اولادِ آدم کی خطاؤں سے سیاہ ہونا ایک بین حقیقت ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’کَادَ الْجُعل أَنْ یُّعَذَّبَ فِيْ حُجْرِہِ بِذَنْبِ ابْنِ آدَمَ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ…﴾ الآية‘[2]
’’قریب ہے اولادِ آدم کے گناہ کی وجہ سے کیڑے کو اس کے بل میں عذاب دیا جائے، پھر اس کی تائید میں انھوں نے یہی آیت ﴿وَلَوْ
[1] بخاری : 6512، مسلم : 950.
[2] ابن کثیر : 3/742.