کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 316
اترا کہ تیرا ربّ نہایت بخشنے والا اور خاص رحمت والا ہے۔ میں نے آپ کو ’’رحمۃ للعالمین‘‘ بنایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی صفت کی بنا پر کبھی ان کے لیے دعا نہیں کی تو میری اسی صفتِ رحیمیت کی بنا پر ہی عذاب سے انھیں مہلت مل رہی ہے۔ ہر ایک کی ہلاکت کا ایک وقت مقرر ہے۔ پہلی جن ظالم امتوں پر میرا عذاب آیا وہ بھی وقتِ مقرر پر ہی آیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لیے وقت مقرر کر رکھا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ اس سے پہلے ان کی قسمت کا فیصلہ نہیں کرتے:
﴿وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ اِِلَی اَجَلٍ مُّسَمًّی لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ﴾[1]
’’اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے ایک وقتِ مقرر تک پہلے طے ہوچکی تو ضرور اُن کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘
﴿وَ لَوْ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّی ﴾[2]
’’اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے ربّ کی طرف سے پہلے ہوچکی اور ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو وہی (پہلے لوگوں والا عذاب) لازم ہوجاتا۔‘‘
اس لیے اگر مواخذہ نہیں ہوتا تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کار فرما ہے۔ ہر ایک کی ’’اجل مسمی‘‘ کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا ہے، اس لیے عذاب اس وقت تک کے لیے مؤخر کردیتا ہے۔
﴿مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ ﴾ مواخذہ ہو تو ان کے جرم کی پاداش میں انسان تو انسان کوئی جاندار بھی زمین کی پشت پر چلنے والا نہ بچے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے نتیجے میں تمام جانور بھی ہلاک ہوگئے تھے اور صرف وہی بچ پائے تھے جو حضرت نوح علیہ السلام کے ہمراہ کشتی پر تھے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے گناہوں کا اثر جانوروں حتی کہ درختوں پر بھی ہوتا ہے۔ حضرت
[1] الشوریٰ : 14.
[2] طٰہٰ : 129.