کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 315
لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا۔‘‘
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دنیا کا زوال ایک مسلمان کے قتل کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بالکل بے قیمت ہے۔‘‘ [1]
اس لیے اگر کسی گناہ پر فی الفور مواخذہ ہونا ہوتا تو صرف اسی بات پر کہ (معاذ اللہ) عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں یا ایک مسلمان کا قتل ہوجانا زمین وآسمان کے تہ وبالا ہوجانے کے لیے کافی ہے۔ مگر ایسا ہے کہ اللہ کی رحمت اللہ کے غضب سے سبقت لے گئی ہے: ’ سَبَقَتْ رَحْمَتِيْ غَضَبِيْ ‘[2]
ایک جگہ ارشاد فرمایا:
﴿وَ رَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذُوْ الرَّحْمَۃِ لَوْ یُؤَاخِذُہُمْ بِمَا کَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَہُمُ الْعَذَابَ بَلْ لَّہُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِہٖ مَوْئِلًا وَ تِلْکَ الْقُرٰٓی اَہْلَکْنہُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَجَعَلْنَا لِمَہْلِکِہِمْ مَّوْعِدًا ﴾ [3]
’’اور تیرا ربّ نہایت بخشنے والا، خاص رحمت والا ہے۔ اگر وہ انھیں اس کی وجہ سے پکڑے جو انھوں نے کمایا ہے تو یقینا ان کے لیے جلد عذاب بھیج دے، بلکہ ان کے لیے وعدے کا ایک وقت ہے جس سے بچنے کی وہ ہرگز کوئی پناہ گاہ نہ پائیں گے۔ اور یہی بستیاں ہیں ہم نے انھیں ہلاک کردیا جب انھوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت رکھ دیا تھا۔‘‘
گویا یہ مہلت اللہ تعالیٰ کی رحمت وبخشش کی وجہ سے ہے۔
یہاں’وربک‘ میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کے لیے ایک لطیف اشارہ ہے کہ ان کی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود، اور ان کی سرکشیوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشانیوں کے علی الرغم ان پر فی الفور عذاب اس لیے نہیں
[1] ترمذی، ابن ماجہ، غایۃ المرام، رقم: 439.
[2] مسلم : 2751.
[3] الکھف : 58 ،59.