کتاب: تفسیر سورۂ فاطر - صفحہ 314
﴿وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّ لٰکِنْ یُّؤَخِّرُہُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاِذَا جَآئَ اَجَلُہُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا ﴾ [فاطر:۴۵[
’’اور اگر اللہ لوگوں کو اس کی وجہ سے پکڑے جو انھوں نے کمایا تو اس (زمین) کی پشت پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑے اور لیکن وہ انھیں ایک مقرر مدت تک مہلت دیتا ہے، پھر جب ان کا مقرر وقت آجائے تو بے شک اللہ اپنے بندوں کو ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘
اس آیت میں بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی اسی سنت کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر پہلے آیت نمبر(۴۳) میں ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں کا فی الفور مواخذہ نہیں کرتے بلکہ اپنے حلم وعفو کی بنا پر درگزر فرماتے ہیں۔
﴿کَسَبُوْا ﴾ سے مراد ظلم ہے جیسا کہ بالکل اسی اسلوب میں سورۃ النحل (۶۱) میں ہے۔ دوسرے جرائم کے علاوہ تنہا ایک جرم ہی ایسا ہے کہ اس کا نتیجہ ہر چیز کی تباہی وبربادی ہے، جیسے فرمایا:
﴿وَ قَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّا تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا ﴾،[1]
’’اور انھوں نے کہا: رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے۔ بلاشبہ یقینا تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو۔ آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں کہ انھوں نے رحمان کے
[1] مریم : 88-91.