کتاب: تفہیم دین - صفحہ 388
حکیم کی تلاوت کرو اور علماء دین کی تقاریر وغیرہ سنا کرو۔مومن آدمی کا دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوتا ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: "خبردار اللہ کی یاد سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔" موسیقی کے آلات وغیرہ اللہ کی یاد سے غافل کرنے والی چیزیں ہیں اور شیطانی آوازیں ہیں۔نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں اور راستے سے ہٹ گئے اور مجھے کہا:اے نافع کیا تم کوئی آواز سن رہے ہو؟ میں نے کہا:نہیں تو انہوں نے اپنے کانوں سے انگلیاں نکال دیں اور کہا:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے اسی طرح کی آواز سنی اور ایسے ہی کیا۔(ابوداؤد 4945،بیہقی 10/22) اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ بانسری کی آواز دل بہلانے کے لئے اور نہ ہی کسی اور غرض کے لئے درست ہو سکتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے بانسری کی آواز سن کر اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لی تھیں۔ہمیں بھی بانسری کی آواز سے بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔موسیقی کے بارے میں راقم کی کتاب"آپ کے مسائل اور ان کا حل قرآن و سنت کی روشنی میں"۔جلد دوم ملاحظہ ہو۔ کیا تسبیح کا استعمال جائز ہے؟ سوال:طواف کے چکر شمار کرنے کے لئے تسبیح کا استعمال جائز ہے؟ جواب:طواف کے چکر شمار کرنے کے لئے تسبیح کا استعمال ہمارے علم کے مطابق کسی حدیث میں موجود نہیں بلکہ عام ذکر و اذکار کے متعلق بھی کوئی ایسی حدیث نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح کے دانوں پر شمار کرتے ہوں۔ پینٹ شرٹ پہننا سوال:کیا کسی مسلمان کے لئے پینٹ شرٹ پہننا جائز ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے